Rayyan Halal Guide

Rayyan Halal Guide

Share

10/04/2026

*📝 معارف الحلال*

*📌 جیلاٹین کا استعمال*

ایک عام سوال یہ کیا جاتا ہے کہ جیلاٹین کا کیا استعمال ہے؟ اور یہ کیا چیز ہے؟ آسان اور سادہ لفظوں میں جیلاٹین کی تعریف اور مفہوم یہ ہے کہ :
جیلاٹین ایک پروٹین کا نام ہے جو جاندار کی ہڈی اور کھال سے حاصل کی گئی کولیجن سے حاصل کی جاتی ہے، اسے جیلینگ ایجنٹ (Gelling Agent) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا کام ہڈی، کھال جوڑے رکھنا ہے، یہ دیکھنے میں جیلی نما ٹھوس مادہ ہوتا ہے، اس کا ایک ماخذ (source) مچھلی بھی ہے، اب سنا یہ ہے کہ اس کو مرغی سے بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انگریزی میں اسے دو طریقوں سے لکھا جاتا ہے :
Gelatin / Gelatine
یعنی جمنے والی چیز، اردو میں اسے جیلاٹن، جیلاٹین، جلیٹن، جیلیٹین لکھا جاتا ہے، عرف میں زیادہ جیلاٹین لکھنا معروف ہے، ہم جب پائے یا نہاری کھاتے ہیں تو ہمارے ہاتھ چکناہٹ اور چپکاہٹ محسوس کرتے ہیں، یہ بھی جیلاٹین ہی ہے۔

پھلوں سے جو جیلنگ ایجنٹ لیا جاتا ہے، وہ پیکسن (Pectin) کہلاتا ہے اور یہ جیلاٹن کا متبادل ہے، تاہم اسے جیلاٹن کہنا درست نہیں۔

*📌 غذائی مصنوعات کی تیاری میں*
مٹھائی کی اشیاء، آئس کریم
پھلوں کے جوس، دہی، پنیر اور مکھن، ملک ڈرنک، ڈیسرٹ، جام، جیلی اور ڈبل روٹی پر لگانے والی دوسری مصنوعات، مٹھائی، ٹافیاں اور چیونگم، گوشت سے بنی مصنوعات

*📌 دوا سازی کی مصنوعات*
ہارڈ شیل کیپسول
سافٹ شیل کیپسول
خون کا پلازمہ
گولیاں
کوٹڈ گولیاں
جیلاٹین سپونج
بالوں کی نگہداشت کی اشیاء
جلد کی نگہداشت کی اشیاء
خوبصورتی کے لئے اشیاء

*فوٹو گرافک جیلاٹین درج ذیل مصنوعات کے بنانے میں استعمال ہوتی ہے*
فلم رول
تصویر کا پرنٹ

*ٹیکنیکل جیلاٹین درج ذیل میں استعمال ہوتی ہے*
کاغذ کی صنعت
پرنٹ کی مصنوعات
لیبارٹری کی اشیاء
ماچس کی صنعت
دھات کی صنعت

خلاصہ یہ کہ جیلاٹین ایک اہم جزو ترکیبی ہے لیکن اس کا حکم مشبوہ (مشتبہ/ مشکوک) ہے جب تک کہ اس کی اصل / ماخذ (Source) معلوم نہ ہوجائے، کیونکہ یہ خنزیر سے بھی حاصل کیا جاتا ہے اور گائے سے بھی، کسی پروڈکٹ میں جیلاٹین ہو اور اس کے حلت کا پتہ نہ چلے تو اس کو بلا تحقیق استعمال سے گریز فرمائیں !

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 17 اپریل 2022ء

*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*🎯 حلال جانور کی سات چیزیں کھانا منع ہے*

۱) دمِ مسفوح ، یعنی بہنے والا خون
۲) پیشاب کی جگہ (نر و مادہ کی)
۳) خصیتین (فوطے / کپورے)
٤) پاخانے کی جگہ
٥) غدود (سخت گوشت)
۶) مثانہ (پیشاب کی تھیلی)
٧) مرارہ (اردو میں پتّا کہتے ہیں، یہ کلیجی میں تلخ پانی کا ظرف ہے)

صاحبِ کنز اور علامہ طحطاوی رحمہما اللہ نے "حرام مغز" کو بھی حرام اجزاء میں شمار کیا ہے، حرام مغز سے مراد دودھ کی طرح ایک سفید ڈوری ہے جو جانور کی پیٹھ کی ہڈی کے اندر کمر سے لے کر گردن تک ہوتی ہے، لیکن بہرحال یہ مفتی بہ قول کے مطابق یہ حرام نہیں۔

بعض حضرات نے "غدود" کا ترجمہ "حرام مغز" سے کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے، فتاوی رشیدیہ میں بھی غدود کا ترجمہ حرام مغز سے نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ بعض کو غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ حرام مغز کو الگ سے ایک مستقل چیز قرار دیا ہے، جو ان الفاظ سے منقول ہے کہ حرام مغز جو پشت کے مہرے میں ہوتا ہے، اور حرام مغز کو عربی میں "نخاع الصلب" کہا جاتا ہے، غدود نہیں کہا جاتا، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ (کفایت المفتی ۸؍۲۸٧، جدید مطول ۱۱؍۶٧١؍ میں) لکھا ہے کہ "حرام مغز نہ حرام ہے اور نہ ہی مکروہ ہے، بیچارہ یونہی بد نام ہوگیا ہے"۔
جبکہ غدود ، غدہ کی جمع ہے، اِس کے معنی جمے ہوئے خون کی گٹھلی کے ہیں اور یہ حرام ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۱٧؍۲۹٧ ڈابھیل)

جہاں تک اوجھڑی کا سوال ہے تو ماکول اللحم جانوروں کی اوجھڑی کھانا حلال اور جائز ہے اور اس کو سات حرام اجزاء میں سمجھنا ناواقفیت پر محمول ہے، فقہائے کرام نے اوجھڑی کو بمنزلہ لحم (گوشت) قرار دیا ہے۔
(مستفاد: فتاوی رشیدیہ قدیم۵۵۳، جدید زکریا ۵۳٤، امداد الفتاوی ٤؍۱۰۲و فتاوی رحیمیہ)

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 09 جولائی 2022ء

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

30/10/2025

*حلال و حرام کی تعیین۔ صرف اللہ کا حق*
از حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (صدر آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ)

خالق کائنات اپنی مخلوق کی فطرت اور ضرورت سے بخوبی واقف ہے ؛ اس لئے اس نے حلال و حرام کا قانون نازل کیا ، جو چیزیں انسان کے لئے نافع تھیں، ان کو حلال رکھا اور جو چیزیں انسان کے لئے مضرت رساں اور نقصان دہ ہیں ، ان کو حرام قرار دیا ؛ چنانچہ نباتات میں مہلک یعنی بلاک کر دینے والی اشیاء اور مسکر یعنی نشہ میں مبتلا کرنے والی اشیاء کو حرام قرار دیا ، باقی تمام نباتات کو حلال قرار دیا گیا؛ کیونکہ اپنی اصل کے اعتبار سے وہ انسان کے لئے مفید ہیں نہ کہ نقصاندہ۔
حیوانات میں جن کا کھانا صحت انسانی کے لئے نقصاندہ ہو، یا جن کی وجہ سے انسانی اخلاق پر اثر پڑ سکتا تھا، ان کو منع کیا گیا؛ کیونکہ جیسے جسم انسانی پر غذاؤں کا اثر ہوتا ہے ، کوئی غذ از هر بن جاتی ہے اور کوئی اکسیر ، اسی طرح انسانی اخلاق پر بھی غذا کا اثر ہوتا ہے۔
اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق ہے اور وہی ان کے نفع و نقصان اور منفعتوں اور مضرتوں سے پوری طرح آگاہ ہے ، اس لئے کسی شئے کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے: "إِنَّ الأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ " (آل عمران: ۱۵۴ )، ایک اور موقع پر ارشاد ہوا کہ کسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالی ہی کو ہے : إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلهِ " (یوسف: (۴۰) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی لی ایم کو بھی اس کا حق نہیں دیا گیا کہ آپ ملی ایم اپنے طور پر کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کردیں (التحریم : 1) اگر کوئی شخص یا کوئی قوم حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنے کا مرتکب ہو ، تو در اصل وہ خدا کے حقوق و اختیارات میں دخل دینے کی کوشش کرتا ہے، اسی لئے جیسے انسان کے لئے کسی حلال کو حرام کرنا جائز نہیں، ویسے ہی کسی حرام کو حلال کرنا بھی درست نہیں .(شمع فروزاں: ۲۰۰/۱-۱۹۹)

شعبه انتخاب: محمد ندوی اسلامی حیدرآباد)

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Karachi