Muhammad Haroon
*حیا کی مختلف قسمیں*
” حیا انسان کی اس انکساری اور شکستگی کو کہتے ہیں ، جس کی وجہ سے کوئی شخص قبیح امور سے باز آجاتا ہے ۔ حیا انسانوں سے بھی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ سے بھی ہوتی ہے ۔ اسی لیے جب کوئی شخص برائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ چھپ کر کرتا ہے ، کیونکہ اسے انسانوں سے حیا آتی ہے کہ اگر وہ دیکھ لیں گے تو کیا ہوگا ۔ خدا تعالیٰ اگرچہ نظر نہیں آتا ، مگر جب یہ یقین ہو جائے کہ اس کی نظر سے کوئی فعل پوشیدہ نہیں ہے تو پھر ذرہ بھر بھی خوفِ خدا رکھنے والا شخص فعلِ قبیح کے ارتکاب کے وقت اللّٰہ تعالیٰ سے حیا کرے گا ، اگرچہ کوئی دوسرا انسان اس کو نہ دیکھ رہا ہو ۔
☆ حیا کی ایک قسم حیا عبودیت ہے ۔ ایک عابد و زاہد اپنی تمام قویٰ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف کرنے کے باوجود یہی سمجھتا ہے کہ وہ اس کی عبادت کا حق ادا نہیں کر سکا ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اس پر جس قدر انعامات کیے ہیں ، اگر وہ ساری عمر بھی عبادت میں لگا دے ، یعنی پیدائش کے وقت ہی اللّٰہ تعالیٰ اس کو فہم عطا کرے اور سجدے میں گر جائے اور ساری عمر اسی ایک سجدہ میں گزار دے اور ہی اللہ تعالیٰ اس کو فہیم عطا کرے اور سجدے مین گر جائے اور وہیں اس کی موت آجائے تو وہ بار گاہ رب العزت میں عرض کرے گا کہ مولٰی کریم ! میں تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکا ۔ حیا عبودیت اسی چیز کانام ہے ۔
☆ حیا خود اپنے نفس سے بھی ہوتی ہے ۔ جب اسے کوئی شخص دیکھنے والا نہ ہو تو بعض اوقات انسان خود اپنے جی میں شرم محسوس کرنے لگتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کسے دھوکا دے رہا ہوں ۔ یہ نفس کی حیا ہے ۔
☆ حیا کی ایک قسم حیا کرم ہے ۔ خود حضور نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام کا واقعہ ہے کہ آپ نے بعض صحابہؓ کو کھانے پر بلایا ، کھانا کھا چکنے کے بعد وہ لوگ وہیں بیٹھ کر بات چیت کرنے لگے ، یہ چیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزری ، مگر آپ نے حیا کرم کی وجہ سے انہیں زبان مبارک سے کچھ نہ کہا ، بلکہ اٹھ کر باہر چلے گئے تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں ، مگر وہ بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے ، حتٰی کہ حضور علیہ السلام پھر تشریف لے آئے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں کہ ” جب نبی علی السلام کے گھر پر کھانا کھانے کے لیے جاتے ہو تو وہاں بیٹھ کر بات چیت میں وقت نہ گزارو ۔ اللّٰہ تعالیٰ کا نبی تو حیا کرم کی وجہ سے تمہیں نہیں کہتا ، مگر تم خود ہی احساس کرو اور کھانا کھا کر واپس چلے جایا کرو ۔ بے شک اللّٰہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا “
( تفسیر معالم العرفان فی دروس القرآن ج ۱ ص 132 و 133 )
اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی نہیں بلکہ سو فیصد تہجد گزار بنادیا جائے لیکن اس کے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے اور ملک کے احوال سے ان کو واقف نہ کیا جائے تو ممکن ہے اس ملک میں آئندہ تہجد تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہو جائے۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی
Click here to claim your Sponsored Listing.
29/10/2024