Azmat alii
جب کوئی اپنا، اپنی چاہتوں کا مرکز، ایک دن اچانک بدل جائے یا دور چلا جائے، تو انسان کے اندر کا شہر ویران ہو جاتا ہے۔ وہ رونق، وہ حرارت، وہ احساسِ ہونے—سب اجڑ جاتے ہیں۔ وہ دل جو کبھی کسی ایک مسکراہٹ پر بہاروں کا منظر پیش کرتا تھا، اب ایک سنسان میدان بن جاتا ہے جہاں یادوں کے سائے چلتے ہیں اور دکھ کے بادل برسنے کو تیار رہتے ہیں۔
یہ صرف تنہائی نہیں، بلکہ اپنی شناخت کے ٹوٹنے کا بیان ہے۔ انسان محبت میں خود کو بانٹ دیتا ہے، اپنا وجود دوسرے کی چاہ میں رکھ دیتا ہے۔ لیکن جب وہ شخص چلا جاتا ہے، تو انسان کا اپنا آپ بھی گھومنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں کون تھا؟ میں کیا تھا؟ میں کہاں کھو گیا؟
یوں لگتا ہے جیسے ایک سایہ ہے، جو کبھی ساتھی تھا، مگر اب خاموش ہے؛ اور ہم اُسی میں اپنی گمشدہ ذات تلاش کرتے رہتے ہیں۔
وہ درد جو کسی کو الزام دینے سے نہیں جاتا…
وہ درد جو کسی کے لوٹ آنے سے بھی نہیں بھر پاتا…
وہ درد جو صرف صبر کے دریا میں ڈوب کر ہی خاموش ہوتا ہے
یہی محبت کا سب سے مشکل باب ہے
کچھ لوگ چلے جاتے ہیں
مگر اُن کی عدم موجودگی دل میں ہمیشہ موجود رہتی ہے
عظمت علی یاسینی
#
محبت تب سب سے زیادہ دوکھ دیتی ہے جب دل مانتا رہے مگر سامنے والا کبھی نہ مان سکے
Follow us
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Hunza
15310