NewsMastermind
07/11/2024
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو اہم پنشن اصلاحات کا اعلان کیا، جس کے تحت آئندہ مالی سال سے سرکاری ملازمین کو سرکاری پنشن نہیں ملے گی۔ نئے بھرتی ہونے والے ملازمین اپنی تنخواہوں سے پنشن فنڈ میں حصہ ڈالیں گے تاکہ مستقبل کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ اس وقت حکومت کا پنشن پر سالانہ خرچ تقریباً 800 ارب سے 1 کھرب روپے ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا 1% بنتا ہے۔
‘دی فیوچر سمٹ - واٹ میٹرز ناؤ’ میں اورنگزیب نے ترسیلات زر میں 12 فیصد اضافے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ 2024-25 میں بیرون ملک پاکستانی 34 ارب ڈالر بھیجیں گے، جو پچھلے سال کے 30.25 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ وزیر خزانہ نے نجی شعبے کو معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ حکومتی مداخلت کو کم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے موجودہ پنشن یافتگان کے مسائل اور جولائی 2025 سے پہلے شامل ہونے والوں کی پنشن کو ‘سٹاک ایشو’ قرار دیا اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی امید ظاہر کی۔ وزیر خزانہ نے آبادی میں اضافے کے مسئلے پر بھی بات کی اور صحت، غذائیت، تعلیم اور فیملی پلاننگ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
سمٹ میں متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل ڈاکٹر بخیت عتیق الرومیتی نے پاکستان کی معاشی ترقی میں تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے مالیاتی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔