Informative World Tv

Informative World Tv

Share

14/10/2021

اکثر محبتوں کے شکار لڑکے مجھے بتاتے ہیں کہ لڑکی نہیں مان رہی، لڑکی کے گھر والے نہیں مان رہے۔ تو میں کہتا ہوں اپنا سٹیٹس بہتر کرو۔ پیسہ اکٹھا کرو ۔بڑی گاڑی لو۔ بڑا بنگلہ خریدو۔
اگر کوئی پڑھا لکھا عاشق ہو تو میں الو کے خون سے تعویز لکھنے کی بجائے اسے CSS کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ بہت سے عاشقوں نے CSS کی کوشش میں PMS پاس کیا تو محبوب خود چل کے قدموں میں آئے۔
محبتوں اور رشتوں کی بندش اچھا سٹیٹس ہی کھول سکتا ہے۔
میں اکثر بڑی گاڑیوں میں دیکھتا ہوں کہ گنجے ٹکلے مردوں کے ساتھ خوبصورت حسینائیں جا رہی ہوتی ہیں۔ یہ حسینائیں ان مردوں کے اچھے سٹیٹس کی کرامات ہوتی ہیں۔

آسمان پہ جوڑے فقط غریب لوگوں کے بنتے ہیں۔ امیر لوگ اپنے جوڑے اپنی مرضی سے بناتے ہیں۔

اگر افسر کا بھدا سا بچہ افسر کے ساتھ آفس آ جائے تو ماتحت عملہ اس بچے سے لاڈ پیار کرتے تھکتے نہیں۔ اگر کبھی چپڑاسی کا خوبصورت بچہ اس کے ساتھ آ جائے تو کوئی اسے منہ نہیں لگاتا ۔۔

تلخ حقیقت 🖤

16/09/2021

سائنسدانوں نے ایک غار کی جب کھوج لگائی تو پتا چلا کہ یہ تو پچاس لاکھ سالوں سے بند پڑی تھی اور اس میں بُہت کچھ حیران موجود تھا۔

مووائل غار کے رہائشی عام جانداروں جیسے نہیں، دُنیا و مافیا سے دور یہ عجیب و غریب دُنیا اپنی مثال آپ ہے۔ رومانیہ کی یہ غار جو کہ بحیرہ اسود کے نزدیک ہے پچھلے ساڑھے پچاس لاکھ سالوں سے بند پڑی ہے۔

یہاں کی زہریلی اور حبس زدہ ہوا نے نئی مخلوقات کی کاک ٹیل بنا دی ہے جو کہ ماہرینِ حیاتیات کے لئے ایک خزانے سے کچھ کم نہیں۔

اس غار کی گہرائیوں کی ہوا عام ہوا سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ اور آدھی آکسیجن رکھتی ہے۔ حیرت ناک بات یہ ہے کہ یہاں کی ہوا میں ہائڈروجن سلفائڈ موجود ہے۔یہ جگہ پچھلے پانچ اعشاریہ پانچ ملین سالوں سے گھُپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے۔

کم روشنی کی وجہ سے بہت سی مخلوقات سفید رنگت رکھتی ہیں کیونکہ رنگ کالا کرنے والا پگمنٹ روشنی کے بغیر نہیں بن پاتا۔ اس وجہ سے اس غار میں موجود مخلوق کی رنگت سفید اور آنکھیں موجود ہی نہیں۔ کیونکہ اندھیرے میں آنکھوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لئے انہوں نے ارتقاء سے انہیں کھو دیا۔

یہ جگہ کسی افسانوی سیارے کا سا ماحول رکھتا ہے جہاں کا ماحول ہی عام دُنیا سے الگ ہے۔ یہ ایکو سسٹم دُنیا کا وہ واحد ایکو سسٹم ہے جو مکمل طور پہ کیمو سنتھیٹک بیکٹیریا پہ انحصار کرتا ہے۔

کیمو سنتھیٹک بیکٹیریا وہ بیکٹیریا ہیں جو کیمیائی اجزاء کی توڑ پھوڑ سے غذائی ضروریات پوری کرتےہیں۔ جبکہ اس کے مُقابلے میں زیادہ تر بیکٹیریا سورج کی روشنی سے انرجی حاصل کرتے ہیں۔اب جبکہ یہاں سورج کی روشنی تو پُہنچ نہیں پاتی تو یہاں کے جانداروں نے کیمیائی تعاملات سے ہی انرجی حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ جس میں وہ سلفر /گندھک کے تعاملات سے انرجی اور کاربن حاصل کرتے ہیں۔

لیکن ایک معمہ ابھی بھی حل کرنے والا ہے۔ اور وہ معمہ یہ ہے کہ یہ غار ایسے کیسے بند ہوئی ؟ اور یہ مخلوقات کس طرح یہاں قید ہوئیں؟

کچھ سائنسدانوں کے مُطابق یہاں پہ بیکٹیریا پانچ ملین سالوں سے پہلے کے قید ہیں جبکہ کیڑے مکُوڑے اُس کے بعد یہاں مقید ہوئے۔بقول جے کُولن جو کہ ایک مائیکرو بائیولوجسٹ ہیں، کے مُطابق کیڑے اس میں پھنسے اور اوپر دہانے پہ پتھر آگِرا جس نے غار کو بند کر دیا۔

اس غار میں اور بھی بُہت سے راز پوشیدہ ہیں۔لیکن اس جگہ کو جاننے کے تیس سالوں کے بعد بھی اس غار کی بہت سی مخلوقات ابھی بھی ہمارے لئے انجان ہیں۔ کیونکہ اس غار میں جانا تقریبا نا ممکن ہے لیکن ان مخلوقات کا مطالعہ ارتقائی حیاتیات کے لئے ایک سنگِ میل ثابت ہو گا۔اور ہمیں جاننے کو بُہت کچھ ملے گا۔

کیونکہ یہاں موجود تمام بیکٹریا اور کیڑے مکوڑے ارتقاء کرکے ایسی ساخت میں ڈھل چکے ہیں جو کہ روشنی میں نہیں بچ سکتی اور فقط اندھیرے میں ہی زندہ بچ سکتے ہیں۔ اور ان میں آئی تبدیلیاں اتنی حیران کن ہیں کہ یہ سیارے پہ ایسی تبدیلیاں ش*ذ ہی نظر آ سکتی ہیں۔

خیر اس غار کا مزید مطالعہ ہمیں حیران کن انکشافات دیتا آ رہا ہے اور مزید دے گا۔ جبکہ تصویر میں نظر آنے والی گھُن کا نام Armadillidium sp ہے ۔

ضیغم قدیر

Photos from Informative World Tv's post 26/06/2021

سوچئے ؟؟؟

بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی!
"ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیا
ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا
اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا،
شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو
اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا.
اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔
دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں
اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں.

ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں
اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی.
ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں
اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں.
ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے.

اس کے برعکس
اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو
وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا.
کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟ بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں.
مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں.
اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں.

صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے.
یاد رکھئے!
بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہوتی،بلکہ بڑھتی ہے.
خیرات دیں،
منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ،
اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی.
باقی مرضی آپ کی"

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address

Gujranwala