Balti Talent
بلتستان کے نوجوان کیوں شہر جا رہے ہیں؟
بلتستان خوبصورت مگر سہولتیں محدود! تعلیم، صحت اور روزگار کی کمی کی وجہ سے نوجوان شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ مسئلہ موسم نہیں، 🫥
"
"یہ صرف پانی نہیں، خوابوں کی تباہی ہے!"
ہمارے گاؤں سلترو گوما کا واحد راستہ — 41سال پرانا پل — دریا کی طغیانی میں بہہ گیا۔
نہ صرف پل، بلکہ کئی کھیت، روزگار، سہولتیں اور لوگوں کی امیدیں بھی پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔
اب حال یہ ہے کہ:
گاؤں میں سگنل بند ہے، لوگ دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔
ہسپتال جانا ممکن نہیں، مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
بچوں کی تعلیم رک چکی ہے، ۔
کھیت تباہ، روزگار ختم، ہر طرف بے بسی ہے۔
اور ستم ظریفی یہ کہ: کروڑوں کا پاور ہاؤس ہمارے علاقے میں بنا ہے، لیکن بجلی کا نام و نشان تک نہیں!
عوام اندھیرے میں ہیں، لیکن کاغذوں میں "ترقی" ہو رہی ہے۔
❓ اب سوال یہ ہے:
21ویں صدی میں بھی کیا لکڑی کا پل ہی ہماری قسمت ہے؟
کیا تعلیم، صحت، روزگار اور بجلی بھی صرف الیکشن وعدوں تک محدود رہیں گے؟
کیا ہمارے منتخب نمائندے صرف ووٹ مانگنے آتے ہیں، مشکل وقت میں نہیں؟
📣 ہم عوامی مطالبہ کرتے ہیں:
ایک پائیدار RCC پل کا فوری منصوبہ بنایا جائے۔
عارضی طور پر فوج (Army) کی مدد سے Bailey Bridge لگایا جائے۔
متاثرہ کھیتوں اور زمین داروں کو فوری معاوضہ دیا جائے۔
سگنل، بجلی، اور ایمرجنسی طبی سہولیات فوری بحال کی جائیں۔
یہ صرف درخواست نہیں، انتباہ ہے:
جو عوام اپنے لیے لکڑی کا پل بنا سکتی ہے، وہ خاموش بھی نہیں رہ سکتی۔
ہم اب صرف فائلوں میں “کام ہوتا دیکھنے” کے لیے نہیں جئیں گے — ہمیں زمین پر نتائج چاہییں۔
👇 اس پیغام کو شیئر کریں تاکہ وہ "ذمہ دار" بھی سنیں، جو صرف چیمبرز میں بیٹھے ہیں، عوام کے درمیان نہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.