Saeedullal official
07/05/2026
کراچی: گلگت کے ضلع نگر سے تعلق رکھنے والی جوتل کی رہائشی خاتون کو کراچی سے اس کی بچی سمیت اغواء کر لیا گیا اور ملتان پہنچا دیا گیا. ورثاء نے اس معاملے پر سندھ پولیس سے رابطہ کیا اور ایف آئی آر درج کروائی جس پر کاروائی عمل میں لائی گئی اور تمام قانونی تقاضوں کے بعد سندھ پولیس کو حکام کی جانب سے حکم صادر کیا گیا کہ لڑکی اور اسکے بچے کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے جس پر سندھ پولیس نے ایک ٹیم تشکیل دے دی اور ملتان روانہ کیا. پولیس کے وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ن لیگ کے ایک ایم پی اے کے زیر اثر یہ سب ہو رہا ہے. پولیس لڑکی اور اسکی بچی کو بازیاب کروانے میں ناکام رہی کیونکہ ن لیگ کے ایم پی اے ملک کرار مشتاق لانگا اس کیس پر اثر انداز ہیں جس کی وجہ سے آگے کی کاروائی ممکن نہیں ہو پائی. سی پی او ملتان صادق علی اس کیس پر کسی قسم کا تعاون نہیں کر رہے ہیں جس پر ایک بار پھر لڑکی کے ورثاء نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیکر ان تمام افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے جو اس کیس پر اثر انداز ہوئے ہیں. ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی تصاویر، انکی شناخت سب کچھ واضح ہے پھر بھی کاروائی کرنے نہیں دی جارہی ہے. ورثاء نے گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام سے بھی اپیل کی ہے اس معاملے پر ہماری مدد کی جائے تاکہ ہماری بچی بحفاظت ہمیں مل جائے. ورثاء کا مزید کہنا تھا کہ اتنا وقت گزر گیا ہماری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے.
اغواء لڑکی جلال پور پیر والا سٹی تھانہ ملتان کے حدود میں ہے. کاروائی کے بعد جن افراد کو ملزمان قراد دیا گیا ان میں محمد اعجاز اور اقراء بی بی شامل ہیں جن کی تصاویر میں حاصل کر لی گئی ہیں.
اٹلی کی خاتون وزیر اعظم نے اسرائ یل کے ساتھ تمام تجارتی معاہدے ختم کر دی
یہ 56 اسلامی ممالک کیلئے منہ پر تھپڑ ہے ۔۔۔See more
شوباز کی سپیڈ چیک کرو
کمر درد کب ہوگی جب حکومت نہیں ہوگی 🌚
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
14000