Ikhwan al-Safa
16/04/2026
آغا خان یونی ورسٹی ہسپتال کے لیے اعزاز
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کو اس کے ہارٹ بائی پاس سرجری اور موتیابند (cataract) سرجری کے پروگراموں کے لیے 'جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل' (JCI) کی جانب سے گولڈ سیل آف اپروول سے نوازا گیا ہے۔یہ ہسپتال دنیا کا دوسرا ایسا ہسپتال بن گیا ہے جس نے بڑھاپے کے موتیابند (senile cataract) کی سرجری کے کلینیکل کیئر پروگرام کی سرٹیفیکیشن حاصل کی ہے، جبکہ ہارٹ بائی پاس سرجری کے لیے یہ عالمی سطح پر یہ اعزاز حاصل کرنے والے صرف تین ہسپتالوں میں شامل ہے۔سی ای او ڈاکٹر فرحت عباس نے کہا کہ یہ سرٹیفیکیشن مریضوں کی دیکھ بھال کے اعلیٰ ترین معیار کی فراہمی کے لیے ہسپتال کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ٹیمیں سخت بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔
از۔ اخوان الصفا
Ikhwan al-Safa
(Coronary Artery Bypass Graft)
12/04/2026
سیرینا ہوٹل ذرائع کے مطابق پرنس رحیم آغاخان نے سیرینا ہوٹل اسلام آباد کو ایران-امریکا مذاکرات کے لیے مفت میں وقف کردیا۔
حکومت کی درخواست پر ہوٹل کو ابتدائی طور پر چار دنوں کے لیے مذاکرات کے لیے بلامعاوضہ وقف کرکے فریقین کے لیے خالی کردیا گیا۔ بعدازاں مذاکراتی ٹیموں کی دوسرے دن روانگی پر دو دنوں کے اخراجات ہوٹل نے خود برداشت کیے جبکہ اگلے دو دن کی بُکنگ کا معاوضہ وزراتِ خارجہ ادا کرے گی۔
اسلام آباد کے دل میں واقع سیرینا ہوٹل کی تاریخ ساز امن مذاکرات کے لیے بلامعاوضہ دستیابی پرنس رحیم آغاخان کی ثالثی، تصفیہ، سفارتکاری اور امن پسندی کی خاندانی روایت کا حصہ ہے۔ یہ اُن کی پاکستان سے دوستی اور خلیج اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی خواہش کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
نومبر 1985 میں امریکی صدر رونالڈ ریگن اور سوویت یونین کے سربراہ میخائل گورباچوف کے مابین سرد جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی مذاکرات طے ہوئے تو پرنس کریم آغاخان جینیوا سوئٹزرلینڈ میں واقع اپنا بنگلہ فریقین کے لیے خالی کرکے اپنے خاندان کے ساتھ کہیں اور منتقل ہوئے۔
اس گھر میں قیام کی واحد شرط ایک نوٹ تھا جو پرنس کریم آغاخان کے دس سالہ بیٹے پرنس حسین نے صدر ریگن کو لکھا تھا، جس میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ گھر میں موجود ان کی مچھلیوں کو روزانہ خوراک دی جائے۔
امریکی صدر کی کوششوں کے باوجود ایک مچھلی مر گئی۔ اس پر صدر نے پرنس حسین کے نام ایک نوٹ چھوڑا:
‘پیارے دوست، منگل کے روز مجھے تمہاری ایک مچھلی ٹینک کے نیچے مردہ ملی۔ مجھے نہیں معلوم کیا ہوا، لیکن میں نے اس کی جگہ اسی قسم کی دو نئی مچھلیاں ڈال دی ہیں۔ امید ہے یہ ٹھیک ہوگا۔ ہمارے اس خوبصورت گھر میں رہنے کی اجازت دینے کا شکریہ۔ رونالڈ ریگن۔’
پرنس حُسین نے صدر کا شکریہ ایک جوابی خط میں ادا کیا جو ذیل میں دیا گیا ہے۔ یہ مذاکرات سرد جنگ کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔
از۔ اخوان الصفا
IKHWAN AL-SAFA
19/03/2026
مولانا رومی 🌸
در ازل دادند چو جام الست
تا ابد ما مست آں پیمانہ ایم
ترجمہ۔
میں نےازل سے ہی جام الست پی لیا تھا
ہم قیامت تک اسی سے مست رہیں گے
شمس تبریزیؔ چہ داند سرّ حق
بستۂ فتراک آں جانانہ ایم
ترجمہ۔
شمسؔ تبریزی خُدا کے راز کو کیا جانے
ہم معشوق کی ڈوری سے بندھے ہوئے ہیں
❣️
08/03/2026
شیخ الجبل کے لقب سے مشہور رشید الدین سنان کون تھے؟
رشید الدین سنان، جو قرونِ وسطیٰ میں شام کے نزاری اسماعیلی داعیوں میں سب سے عظیم سمجھے جاتے ہیں، تقریباً 1133ء میں عراق کے شہر بصرہ میں ایک اثناعشری شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے۔
ابتدا میں وہ ایک استاد کے طور پر کام کرتے تھے، لیکن جوانی میں انہوں نے نزاری اسماعیلی مسلک قبول کر لیا۔ بعد میں سنان مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے الموت گئے، جو اسماعیلی دعوت کا مرکزی مرکز تھا۔ وہاں ان کی ملاقات امام حسن علیٰ ذکرہِ السلام سے ہوئی۔
سن 1162ء میں جب امام حسن علیٰ ذکرہِ السلام امامت کے منصب پر فائز ہوئے تو کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے سنان کو شام بھیجا تاکہ وہ وہاں کے چیف داعی ابو محمد کی جگہ سنبھالیں۔
اس وقت شام کے اسماعیلیوں کو کئی مشکلات کا سامنا تھا۔ جن علاقوں میں یہ برادری آباد تھی وہاں زمین زیادہ زرخیز نہیں تھی، اس وجہ سے بہت سے لوگ روزگار کی تلاش میں حماہ، حمص اور حلب کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اس کے علاوہ صلیبی فوج کی جانب سے اسماعیلی علاقوں پر حملے ہوتے تھے اور انہیں خراج ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ کمیونٹی کے اندرونی اختلافات بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے تھے۔
حکمتِ عملی اور سفارت کاری کے فن میں ماہر ہونے کے باعث سنان نے جلد ہی برادری کے اندر موجود اختلافات کو ختم کیا اور دعوت کے نظام کو دوبارہ منظم کیا۔ انہوں نے اپنے دور کی علاقائی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا اور نزاری اسماعیلیوں کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کا سہارا لیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے صلیبیوں، موصل کے زنگی حکمرانوں اور ایوبی سلطنت کے بانی صلاح الدین ایوبی کے ساتھ مذاکرات کیے۔
مؤرخ پیٹر ویلی کے مطابق سنان اور صلاح الدین کے درمیان قائم ہونے والے خوشگوار تعلقات ان کی وفات کے بعد بھی برقرار رہے۔ شام میں صلاح الدین کے بعد آنے والے ایوبی حکمرانوں نے اسماعیلیوں کو اپنے قلعے برقرار رکھنے کی اجازت دی اور صلیبیوں کے خلاف مزاحمت میں ان کی فوجی مدد بھی کی۔ وہ صلیبیوں میں "شیخ الجبل" یا Old Man of the Mountains کے نام سے مشہور ہوئے۔
مشہور سنی مصنف سبط ابن الجوزی (وفات 1256ء) نے سنان کو “علم، حکمرانی اور لوگوں کے دل جیتنے کی صلاحیت رکھنے والا شخص” قرار دیا۔ اسی طرح شامی اسماعیلی داعی نور الدین احمد نے سنان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ “بیان میں فصیح، دلائل میں طاقتور، گہری نظر رکھنے والے، فوری جواب دینے میں ماہر اور باطنی تفسیر، شاعری اور فلکیات کے اصولوں میں بے مثال تھے۔”
تقریباً 30 سال تک بطور چیف داعی خدمات انجام دیتے ہوئے سنان نے شام کے نزاری اسماعیلیوں کو طاقت اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ 1193ء میں ان کی وفات کے ساتھ ایک اہم دور اختتام پذیر ہوا، مگر ان کی کامیابیوں کی گونج آج بھی شام کے اسماعیلیوں میں سنائی دیتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.