Mir Of Ghizer Official

Mir Of Ghizer Official

Share

16/10/2022

سیاحت گلگت بلتستان۔

سیاحت کے عتبار سے گلگت بلتستان کسی سیاحتی مقام سے کم نہیں ہے۔ گلگت بلتستان کا صدر مقام گلگت شہر ہے ۔
اور گلگت بلتستان کا مشہور کھیل پولو ہے جو کہ چترال اور شندور کے مقام پر کھیلا جاتا ہے۔ یہ شندور گلگت اور چترال کو ملا دینے والا ایک درہ ہے۔
جو سیاہ کیلے بہت مستفید ہے۔ اور یہاں شندور پر ہر سال میں ایک میلا لگتا ہے۔ جسے شندور میلا کہتے ہیں۔ اس میں پولو سمیت دیگر کھیلوں کے مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان کو اللہ تعالی نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔
گلگت بلتستان کے 3 ڈویزن ہیں۔ گلگت ۔ بلتستان۔ دیامیر استور ڈویزن گلگت میں 4 ضلعے ہیں اور بلتستان میں چار ضلع ہیں ۔ دیامیر استور ڈیویژن میں 2
گلگت بلتستان یکم نمبر 1948 کو ڈوگر حکومت سے آزاد کرایا گلگت بلتستان کے بزرگوں نے۔
اور آزاد کرانے کے بعد گلگت بلتستان کے بزرگوں نے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کر کے زم ہوئے۔ اور اسی دوران قائداعظم نے ایم عالم کو گلگت بلتستان کی سٹپ کیلے بیجھا انہوں نے کشمیر کے راجا ہری سنگھ کے ساتھ مل کر گلگت کو ایک متانازعہ علاقہ بنا کہ رکھ دیا ۔
اور گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے ساتھ بہت دلی لگاو رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کیلے بے شمار قربانیاں دے ہیں۔
پاکستان کی ہر فورس کا حصہ بنے ہیں۔ پاکستان کی عالی عزاز نشان حیدر ہے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا نائک حوالدار لالک جان کو نشان حیدر سے نوزا گیاہے۔
جس کا تعلق گلگت غزر یاسین سے تعلق ہیں اسی طرح اور بھی گلگت سے تعلق رکھنے والا جنہوں نے پاکستان کے عالی عزاز کے ساتھ سپرد خاک ہوئے ہیں۔ اور اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کئے ہیں۔ یہ گلگت بلتستان کی ایک چھوٹی سی تاریخ ہے۔
اسی کے ساتھ میں اپنا کالم طرف آنا چاہوگا ۔ سیر و سیاحت کیلے پاکستان میں گلگت بلتستان سے زیادہ موزوں اور کوئی ایسی جگہ نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کی لوگوں کے محبت میں ایک الگ سا مٹھاس ہے۔ اور ان کی محبت سے سیاہ بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ گلگت میں سیاہ کو کسی بھی جگہ میں چھوٹی سی راکاوٹ تکلیف یا مشکلات پیش آتی تو گلگت کے لوگ ان کی خدمت کیلے حاضر ہوتے ہیں۔ اور ان کو اس مشکلات سے نکالتے ہیں۔
اور اسی اثنا پر میں یہاں تھوڑ ی سی مری کے حولے سے بھی زکر کرونگا کیوں کہ مری بھی ایک ٹوریزم کیلے بہت اہمیت رکھتی ہے اللہ نے خوبصورتی تو وہاں بھی دیے ہیں۔
لیکن جتنا پیار محبت خلق خدمت اللہ تعالی نے گلگت والوں کو دی اتنا وہاں نہیں۔ گزشتہ دن پہلے مری میں برفانی آفت آئی اس وقت وہاں کے لوگوں اور وہاں کی گورنمنٹ نے جو سلوک سیاہ کے ساتھ کئے وہ آپ مجھ سے بہتر جانتے۔ وہاں کچھ لوگوں کی جوانی اور کچھ پھول جیسے معصوم بچوں کی وہ موت دیکھ کر میری آنکھیں نم ہوجاتی۔اور دل خون کی آنسوں روتا ہے۔
اور ہاں مری سے زیادہ خوبصورت جگیں تو گلگت بلتستان میں ہیں جہاں سے سیاہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
مری سے زیادہ سیاہ کو گلگت میں لطف اندوز ہونے کو ملے گا۔ناران کاغان سے ہوتے ہوئے گلگت بلتستان کی سفر شروع ہوتی ناران سے آگے راستے میں لولوسر جھیل آئے گا لولوسر جھیل والڈ لیول میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ سیاہ کیلے بہت انجوائے ہونے کو ملے گا ۔سیاہ ادھر کا نظارہ دیکھ سکتے ہیں۔ جوں ہی وہاں سے آگے نکلو گے تو گھیتی داس کے مقام پر پہنچو گے اور وہاں روڈ کے آس پاس کے مقام سرسز اور شاداب ہیں اور کھلا سا میدان ہیں۔ اور وہاں سے اگے بابوسر ٹاپ آئے گا۔ بابوسر ٹاپ میں ہزاروں کی تعداد میں سیاہ پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
اور وہاں ہوٹل اور کھانا پینے کا انتظامات موجود ہیں۔ اور یہ بابوسر ٹاپ ایک درہ ہے جو پاکستان کو گلگت سے ملادیتا ہے۔
بوبوسر ٹاپ کی لمبائی 13700 فٹ ہیں وہاں سے گلگت شہر تک 180 کلو میٹر ہے۔ اور چلاس کے کے ایچ تک 44 کلو میٹر ہے ۔اور خنجراب ٹاپ تک 384 کلو میٹر ہے ۔ بابوسر ٹاپ سے کے کے ایچ تک روڈ میں اسپیشل سکیورٹی تعنات ہیں جو سیاہ کی مدد کیلے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کے کے ایچ 0 پوئنٹ سے دایئں طرف گلگت شہر ہے اور بایئں طرف چلاس شہر ہے۔
اور گلگت بلتستان کے مشہور شہروں میں چلاس، گلگت،سکردو، ہنزہ، گاہگوچ، استور، اور جگلوٹ، ہیں۔ اور اس کے علاوہ قدرت کے حسین نظاروں میں اور خوبصورت پہاڑوں سلسلے بھی یہاں موجود ہیں۔ جن۔ میں درہ بابوسر، فیری میڈوز، استور، دیوسائی، کچورہ، ہنزہ، درہ خنجراب، پھنڈر، نلتر، راما، سیاچین، راکاپوشی، شگر، اور داریل 8۔ بہت مشہور سیاحتی علاقے ہیں۔ جہاں ہر سال لاکھوں سیاہ ہر سال خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلے گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں۔
دنیاں کی سب سے دورسری بلند ترین چوٹی k2 گلگت کے مقام پر موجود پاکستان کا پہلا اور دورسرا بلند ترین چوٹی k2اور ننگاپربت گلگت کے مقام پر ہیں۔ چلاس سے ایک گھنٹہ کی سفر پر رائیکوٹ آئے گا جہاں سے فیری میڈوز کا رستہ نکلے گا اور ننگا پربت بھی اسی فیری میڈوز کی مقام پر ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ گلگت بلتستان سے آتا ہے۔ جو پاکستان۔ کو سیراب کرتاہے۔ سیاچین گلیشر بھی گلگت کی مقام میں پایا جاتا ہے۔ اور اب دنیاں کا سب سے بڑا پراجکٹ سی پیک۔ شروع ہورہا ہے اور یہ سی پیک کا مین گیٹ گلگت بلتستان ہے۔
آتنا خوبصورتی اللہ رب کریم نے گلگت بلتستان میں رکھی ہے کہ میں گن نہیں سکتا یہ ہمارا رب کا ہم پے کرم ہے۔
تحریر کے آخر میں چند التجا کے طور پر چند الفاظ یہاں شامل کرنا چاہونگا۔ میں بحثیت فدح اللہ حسرت گلگتی میرے تمام فرینڈ جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا میرا یہ کالم جس کے پاس بھی پہنچا جنہوں نے پڑا وہ میرا یہ کالم پاکستان کے ہر شہری تک پہنچائے اور یہ پیغام ان تک پہنچے جس سے ہمارا گلگت کی حوالے سے ان کو آڈیا ہوگا کہ اسطرح کا بھی مقام ہے ہے جو سیاہ کی ایک ماننز کی حثیت رکھتی ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Gilgit
15200