Sada-e-Himalayan
05/05/2026
شعائرِ اسلام کا تقدس اور قانونی کارروائی کا مطالبہ — 'رحمۃ للعالمین' صرف نبی کریم ﷺ کی ذات ہے!
سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک ایسی پوسٹ نظر سے گزری جس میں جہالت اور حد سے بڑھی ہوئی عقیدت میں ایک عام انسان کے لیے وہ مقدس لقب استعمال کیا گیا جو کائنات کے خالق نے صرف اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے لیے مخصوص فرمایا ہے۔
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ"** (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا)۔
کچھ باتیں جو ہر مسلمان کو سمجھنے کی ضرورت ہیں:
•• "رحمۃ للعالمین" کوئی عام اعزاز نہیں، یہ وہ منفرد مقام ہے جو نہ کسی امام، نہ کسی ولی اور نہ ہی کسی پیشوا کو دیا جا سکتا ہے۔ یہ مقام صرف اس ہستی کا ہے جس پر نبوت ختم ہوئی۔
•• کسی بھی شخصیت کی محبت میں اتنا آگے بڑھ جانا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقرر کردہ حدود کو پار کر لیا جائے، یہ محبت نہیں بلکہ "ذہنی پستی" اور "گمراہی" ہے۔ ایسی حرکات سے نہ صرف عقیدہ خراب ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں فتنہ اور انتشار پھیلتا ہے۔
•• جو لوگ ایسی جاہلانہ پوسٹس کرتے ہیں، وہ اپنے ہی رہنماؤں اور کمیونٹی کے لیے جگ ہنسائی اور نفرت کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی لغو باتیں کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں۔
•• ایک سچے مسلمان کے لیے ناموسِ رسالت ﷺ اور آپ ﷺ کے مخصوص مقامات کا تحفظ ہر چیز سے مقدم ہے۔ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی سستی شہرت یا اندھی عقیدت کے لیے اسلام کی بنیادی اصطلاحات کا حلیہ بگاڑے۔
ہمارا پیغام واضح ہے:
عقیدت آپ کا نجی معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن اسلام کی بنیادی اصطلاحات اور نبی کریم ﷺ کی شان میں کسی قسم کی مداخلت یا تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسی حرکات کرنے والے افراد کو فوری طور پر توبہ کرنی چاہیے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے فتنہ انگیز بیانات پر نظر رکھے جو علاقے کے امن و امان کو تباہ کر سکتے ہیں۔
06/03/2026
ان معصوموں کا کیا قصور تھا؟" — بڑوں سے چند چبھتے ہوئے سوالات
پچھلے چند دنوں سے ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا ہے:
"ان پھول جیسے معصوم بچوں اور نوجوانوں کا آخر کیا قصور تھا؟ جن ماؤں کی گود اجڑ گئی، ان کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی؟"
بلاشبہ، کسی بھی معصوم جان کا ضیاع ایک ایسا لرزہ خیز سانحہ ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ کسی بھی ماں کا اپنے لختِ جگر کو کھونا وہ کرب ہے جس کا مداوا دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔ ظلم چاہے کسی کی بھی طرف سے ہو، ناحق خون بہنے کی مذمت ہر انسان پر فرض ہے۔
لیکن، آج میں آپ سب سے یہ تلخ سوال پوچھنا چاہتا ہوں:
اگر وہ بچے معصوم تھے، تو آپ لوگوں نے انہیں اس پرتشدد اور مشتعل ہجوم کی اگلی صفوں میں کیوں کھڑا کیا؟ کیا یہ آپ سب کی، بحیثیتِ معاشرہ اور بحیثیتِ بڑے، ایک بدترین ناکامی نہیں ہے کہ آپ نے ان معصوموں کو سیاست اور جذباتیت کی اس آگ کا ایندھن بننے دیا؟
خدارا! ان کے ہاتھوں میں پتھر نہیں، قلم دیجیے!
بچوں کے ہاتھ کسی کے دفاتر، گاڑیاں یا املاک تباہ کرنے کے لیے نہیں بنے۔ ان کے ہاتھوں میں صرف "کتاب" جچتی ہے۔ جب آپ لوگ اپنے غصے اور احتجاج کے لیے ان چھوٹے بچوں کو سڑکوں پر لاتے ہیں، تو دراصل آپ خود ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
اگر آپ لوگوں کو واقعی اپنے بچوں سے پیار ہے اور ان ماؤں کے آنسوؤں کا ذرا بھی احترام ہے، تو آج یہ فیصلہ کریں کہ اپنی نسلوں کے ذہنوں میں نفرت اور اشتعال نہیں بھریں گے۔ ان معصوموں کو یہ سکھائیں کہ دنیا میں اپنا حق مانگنے اور ظالم کا مقابلہ کرنے کا سب سے طاقتور اور ناقابلِ شکست ہتھیار 'تعلیم'، 'شعور' اور 'دلیل' ہے۔
لاشیں اٹھانا، جنازے پڑھنا اور عمارتیں جلانا ہمارا مقدر نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں، اور زندہ قومیں اپنے بچوں کو مرنے کے لیے سڑکوں پر نہیں چھوڑتیں، بلکہ انہیں جینے اور دنیا پر راج کرنے کے لیے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجتی ہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ہمارے خطے کو امن کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔
Disclaimer: "Symbolic illustration. Not a photograph of a real event."
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100