Hackzone
نیکی کی قرآنی تعریف
لوگ نیکی کی قرآنی تعریف کو چھوڑ کر بعض دیگر اعمال کو اہمیت دیتے ہیں
جبکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ، آخرت کے دن، فرشتوں، کتاب، اور نبیوں کو مانے، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کو آزاد کروانے کے لئے خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے۔ نیک تو وہ لوگ ہیں جو جب وعدہ کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں اور تنگی و مصیبت میں اور جنگ کے موقع پر صبر کرتے ہیں۔ یہی یہ راستباز لوگ اور یہی متقی ہیں۔ البقرۃ 2: 177
اہل کتاب کے ہاں قبلے کا فرق ایک معرکۃ الآرا بحث تھی۔ ایک گروہ بیت المقدس کے مشرقی حصے کو قبلہ مانتا اور دوسرا مغربی حصے کو۔ اللہ تعالی نے یہ بیان کر دیا کہ اس قسم کی بحثیں اللہ کے نزدیک لا یعنی ہیں۔ یہ بات ایک مثال کے طور پر بیان ہوئی۔ اس قسم کی جتنی بھی بحثیں ہمارے مذہبی حلقوں میں پائی جاتی ہیں ان سب کی یہی حیثیت ہے۔
اصل نیکی یہ لا یعنی بحثیں، فقہی و کلامی اختلافات اور کسی مخصوص گروہ سے وابستگی نہیں بلکہ ایمان و اخلاقیات ہیں۔ قرآن مجید نے ایمان کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالی، آخرت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ اسی ایمان کی وضاحت احادیث میں کی گئی ہے۔
ایمان کے بعد اہم ترین چیز اخلاقیات ہیں۔ ضرورت مندوں پر اللہ تعالی کی رضا کے لئے خرچ کرنا عظیم نیکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں غلامی کی لعنت دنیا میں موجود تھی، اسے تدریجاً ختم کرنے کے لئے غلاموں کو آزاد کرنے پر زور دیا گیا۔ نماز کا قیام اہم ترین نیکی ہے اور انسان کے اعلی اخلاق کا حصہ ہے کیونکہ یہ رب کریم کا شکر ہے جو بندے کو اس کی نعمتوں کے جواب میں ادا کرنا چاہیے۔
وعدے کو پورا کرنا اور مصیبت میں ثابت قدمی اختیار کرنا نیکی کا اہم ترین پہلو ہے۔ نیکی کے یہ وہ پہلو ہیں جو ہمارے معاشرے میں بالعموم ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم لوگ عام طور پر وعدہ کر کے وقت پر نہیں پہنچتے۔ کاروباری معاملات میں وعدہ خلافی اور وقت پر دوسرے کا حق نہ دینا عام ہے۔ مصیبت کے موقع پر ہم لوگ چیخ و پکار اور توڑ پھوڑ میں مشغول ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالی کے حکم کے خلاف بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اس آیت کی روشنی میں اپنی شخصیت کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم لوگ ان نیکیوں پر کس حد تک قائم ہیں۔ آئیے اس آیت میں دی گئی نیکیوں کی فہرست کا جائزہ لیں اور اپنی شخصیت کا محاسبہ کریں:
· اللہ تعالی پر ایمان
· آخرت پر ایمان
· فرشتوں، آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان
· اللہ کی راہ میں حاجت مندوں پر خرچ کرنا
· نماز قائم کرنا
· زکوۃ دینا
· وعدہ پورا کرنا
· مصیبت میں ثابت قدم رہنا اور صبر کرنا
ایک درد بھرا سچا واقعہ
( یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا )
ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا ؟ آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈاکے ہم . کیا پتہ کون گنہگار پڑه کہ راہ راست پہ آجاے.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
38000