DAD BEDAD Chitral
24/03/2026
عالمی یومِ تپ دق (ٹی بی) 2026 کے موقع پر پاکستان نے اس مہلک مگر قابلِ علاج متعدی بیماری کے خاتمے کے لیے فوری، مربوط اور پائیدار اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ بدنامی (اسٹگما) مالی وسائل کی کمی اور صحت کے نظام کو درپیش چیلنجز بدستور رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
تپ دق دنیا بھر میں کسی ایک متعدی جرثومے سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2024 میں تقریباً ایک کروڑ سات لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوئے جبکہ 12 لاکھ 30 ہزار افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ یہ بیماری متاثرہ فرد کے کھانسنے، چھینکنے یا بات کرنے سے فضا میں پھیلتی ہے۔ اگرچہ یہ بنیادی طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، تاہم دماغ، گردوں اور ریڑھ کی ہڈی سمیت دیگر اہم اعضا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ٹی بی کے 54 فیصد مریض مرد، 35 فیصد خواتین اور 11 فیصد بچے ہیں جبکہ بچوں میں ٹی بی اب بھی خاطر خواہ توجہ سے محروم ہے۔
پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں تپِ دق (ٹی بی) کا بوجھ انتہائی زیادہ ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں، جو عالمی بوجھ کا لگ بھگ 6.3 فیصد ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ سطحی میٹنگز سمیت عالمی سطح پر کیے گئے وعدوں کے باوجود پیش رفت بدستور سست ہے، بالخصوص پاکستان جیسے زیادہ متاثرہ ممالک میں جہاں چیلنجز مزید پیچیدہ نوعیت اختیار کر لیتے ہیں۔
پاکستان میں تپِ دق کے خلاف اقدامات کو سرکاری و نجی شعبوں کے باہمی تعاون سے نمایاں تقویت ملی ہے۔ مرسی کور پاکستان نے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اور صوبائی ٹی بی پروگرامز کے اشتراک، اور گلوبل فنڈ کے تعاون سے پبلک پرائیویٹ مکس ماڈلز کے تحت ٹی بی خدمات تک رسائی کو وسعت دی ہے، جس کے نتیجے میں خصوصاً پسماندہ علاقوں میں لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
مرسی کور پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر عارف جبار خان نے کہا کہ "تپِ دق کے خاتمے کے لیے محض طبی علاج کافی نہیں بلکہ عوامی آگاہی میں اضافہ اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی بھی ناگزیر ہے۔ اگرچہ سرکاری و نجی شراکت داری کے نتیجے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے تاہم بدنامی اور غلط فہمیاں اب بھی مریضوں کو بروقت علاج سے دور رکھتی ہیں جس سے بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمیں کمیونٹی کی سطح پر آگاہی کو مزید مؤثر بنانا، احتیاطی علاج کو فروغ دینا اور بچوں سمیت تمام افراد کے لیے بلا تعطل صحت خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ آگاہی میں اضافہ، سپلائی چین کی مضبوطی اور پائیدار نظام میں سرمایہ کاری ٹی بی سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اور صوبائی ٹی بی پروگرامز ملک سے ٹی بی کے خاتمے کے لیے قابلِ ستائش کام کر رہے ہیں۔ این ٹی پی کی قیادت میں ہم قومی اہداف کے حصول کے لیے پُرامید ہیں، جبکہ صحت کے مجموعی نظام کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ دیرپا اور پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکیں۔"
عمل درآمد کرنے والے شراکت دار اداروں کے سربراہان، جن میں ایس پی او کی عارفہ مظہر، ایسوسی ایشن فار کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے ڈاکٹر اکمل نوید، ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ کے ڈاکٹر محمد عامر خان، برج کنسلٹنٹس فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر سید شرف علی شاہ، گرین اسٹار سوشل مارکیٹنگ کے ڈاکٹر ایم خالد فاروق اور میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کے مروِن لوبو شامل ہیں نے کمیونٹی سطح پر اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ "ٹی بی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بھی ہے، جو غربت، بدنامی اور آگاہی کی کمی سے جڑا ہوا ہے۔ خوف اور غلط فہمیوں کے باعث بہت سے مریض علاج میں تاخیر کرتے ہیں، جس سے بیماری کے پھیلاؤ اور پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ کمیونٹیز کے قریب خدمات کی فراہمی، مریض دوست اور باعزت رویے کو فروغ دینا اور آگاہی میں اضافہ بروقت تشخیص اور کامیاب علاج کے لیے ضروری ہیں۔"
شراکت دار اداروں نے قومی ردعمل کی حمایت کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ "ٹی بی کا خاتمہ صحتِ عامہ اور ترقی دونوں کے لیے ترجیح ہے۔" مالی خلا کو پُر کرنا، احتیاطی اقدامات کو مضبوط بنانا اور ٹی بی سے جڑے سماجی عوامل سے نمٹنا ناگزیر ہے۔ حکومت، شراکت داروں اور کمیونٹیز پر مشتمل مربوط اور کثیر الجہتی حکمتِ عملی پیش رفت کو تیز کرنے اور قومی و عالمی اہداف کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹی بی کا خاتمہ مسلسل سیاسی عزم، مقامی سرمایہ کاری میں اضافے اور صحت کے نظام کی مضبوطی کے ذریعے ممکن ہے۔ احتیاطی علاج کا دائرہ وسیع کرنا، ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا، مقامی دواسازی کی صنعت میں سرمایہ کاری اور عوامی آگاہی کو ترجیح دینا اہم اقدامات ہیں۔
عالمی یومِ تپ دق 2026 کے موقع پر پاکستان بھر کے متعلقہ فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ٹی بی کا خاتمہ ممکن ہے، تاہم اس کے لیے مشترکہ کاوشیں، مضبوط شراکت داریاں اور مستقل عزم ناگزیر ہیں۔
میڈیا رابطہ:
ممتاز گوہر
مرسی کور پاکستان
0333-9993833
[email protected]
27/04/2025
داد بیداد
ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی
چراگاہوں کا قانون
پا کستان انوائرنمنٹ پرو ٹیکشن ایکٹ 1997ء کو عام فہم زبان میں چرا گاہوں کا قانون کہا جا تا ہے انگریزی میں مخفف کر کے اس قانون کو PEPA-97کہا جا تا ہے اس قانون کے تحت چاروں صوبوں میں خصو صی ٹر یبو نل قائم کئے گئے ہیں پنجا ب میں اس قانون پر سختی سے عمل کیا جا تا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کا خاص خیا ل نہیں رکھا جا تا، تعلیمی اداروں میں بھی اس قانون سے آگا ہی کا کوئی اہتمام نہیں ہے سول سو سائیٹی اور سما جی تنظیموں کی سطح پر بھی اس قانون کا احترام دیکھنے میں نہیں آتا، انسا نی حقوق اور عوامی مفاد کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس قانون کو طاق نسیان پررکھ دیا ہے چنا نچہ گرمیوں کا مو سم آتے ہی ڈیزل اور پیٹرول جلا نے والی ہلکی اور بھا ری گاڑیوں کا رخ چراگاہوں کی طرف موڑ دیا جا تا ہے لا کھوں کی تعداد میں لو گوں کو شہر وں سے اٹھا کر چرا گاہوں میں ڈال دیا جا تا ہے گرمیوں کے تین چار مہینوں میں ہماری چرا گاہیں ٹنوں کے حساب سے جمع ہونے والے کچرے کا ڈھیر بن جا تی ہیں، سبزہ خشک ہوجاتا ہے چشموں اورجھیلوں کا پا نی آلودہ ہو جا تا ہے ہزاروں کی تعداد میں ما ل مویشی مختلف مہلک بیما ریوں کا شکار ہو کر مر جا تے ہیں پرندوں، چرندوں اور درندوں کی زند گی بھی خطرے سے دو چار ہو جاتی ہے نبا تات کی گو نا گوں انواع کا بھاری نقصان ہو تا ہے عوام سراپا احتجا ج بن جا تے ہیں لیکن حکومت کو کا نوں کا ن خبر نہیں ہو تی پنجا ب میں کوئی جشن، میلہ یا سپورٹس گا لا ہوتا ہے تو لا ہور، ملتان، فیصل اباد اور راولپنڈی میں واقع کھیل کے میدانوں میں منعقد ہوتا ہے، مری، کلر کہا ریا چھا نگا مانگا میں جشن، میلہ یا سپورٹس گا لا منعقد ہونے کی کوئی خبر ذرائع ابلاغ میں نہیں آتی خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے میدانوں کی کوئی کمی نہیں جگہ جگہ سٹیڈیم مو جو د ہیں کھیلوں اور تما شوں کا بنیا دی ڈھا نچہ دستیاب ہے مگر جب بھی لو گوں کو شغل میلہ لگا نا ہوتو شہروں کا سارا کچرا گاڑیوں پر لا د کر کا لام، ما لم جبہ، قاقلشٹ،شندور، جا ز بانڈہ، بروغل اور گوبور کا رخ کیا جاتا ہے اور چرا گاہوں کے قدرتی حسن کے ساتھ فطری ما حول کا ستیا ناس کر کے رکھ دیا جا تا ہے چترال بالا کے قاق لشٹ میں سبزہ کو اُگے ہوئے ایک ما ہ بھی پورا نہیں ہوا بکریوں کے ریوڑ اس سبزہ زار میں پہنچے ہی تھے کہ اوپر سے جشن منا نے کا حکم ہوا، لا کھوں سیاح ہزاروں گاڑیوں میں اس سبزہ زار پر پہنچ گئے، ایک ہفتے تک سبزہ زار کو پاوں اور ٹائروں تلے روند کر مٹی کا ڈھیر بنا دیا سینکڑوں ٹن کچرا وہاں چھوڑ کر سب کچھ بر باد کر کے شہروں کو واپس ہوئے اگر کھیل تما شے اور شغل میلے کسی سٹیڈیم اور کھیل کے میدان میں ہوتے تو چرا گاہ کا فطری حسن بر باد نہ ہوتا، بے زبان اور بے ضرر جا نوروں کا چارہ تبا ہ نہ ہوتا کالام، شندور، بروغل اور گو بور میں قدرتی جھیلوں کا پا نی بھی جشن اور ٹور نمنٹ کی وجہ سے آلو دہ ہو کر آبی حیات کے لئے زہر قاتل بن جاتا ہے کچھ لو گ غلط فہمی کا شکار ہیں کہ کھیل تما شے بھی انسانی فطرت کا حصہ ہیں، سیا حت بھی آمدنی کا ذریعہ ہے حا لانکہ کھیل تما شوں کے لئے کھیلوں کے میدان اور سٹیڈیم بنا ئے گئے ہیں، سیا حوں کے لئے بستیوں کے اندر گیسٹ ہاوس، ہوٹل اور دیگر سہو لیات دی گئی ہیں ترقی کا درست مفہوم یہ ہے کہ قدرتی حسن اور فطرت کے منا ظر کو نقصان پہنچا ئے بغیر ترقی کا ہدف حا صل کیا جا ئے تو اس کو پائیدار ترقی (Sustainable develepment)کہا جا تا ہے، عوامی مفاد کے تحفظ کے لئے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوتا ہے جو دفعہ 144لگا کر چرا گا ہوں اور قدرتی سبزہ زاروں کے تحفظ کو یقینی بنا تا ہے، اس مقصد کے لئے خصوصی ٹر یبو نلز اور عام عدالتوں کو متحرک کر نے کے لئے ہر ضلع میں و کلا ء کا ایک پینل ہوتا ہے جس کو Probo bono lawyersکہا جا تا ہے قانون دانوں کا یہ پینل ایسے موا قع پر PEPA-97کے تحت عدالت سے حکم امتنا عی حا صل کر کے ما حولیات کی تبا ہی کو روکتا ہے خیبر پختونخوا کے پہا ڑی اضلا ع چترال، دیر، سوات اور کو ہستان میں قوانین بھی مو جود ہیں، قانون دانوں کے پینل بھی دستیاب ہیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا فورم بھی اپنی جگہ قائم ہے اس کے باو جو د ہر سال کھیل کے میدانوں کو ویران کر کے جشن کے لئے چرا گاہوں کا رخ کیا جا تا ہے جو قدرتی ما حول اور حسن فطرت کی آلود گی کا باعث بنتا ہے اس تباہ کن رجحا ن کی حو صلہ شکنی ہو نی چاہئیے اور ما حولیاتی تحفظ کے قانون مجریہ 1997پر سختی کیساتھ عمل در آمد ہونا چاہئیے۔
20/11/2024
یونیور سٹی آف چترال کے انتخا بات اویس احمد صدر منتخب
چترال ( رپورٹر) یو نیور سٹی آف چترال کے طلباء الیکشن میں اویس احمد 556ووٹ لیکر یو نیور سٹی آف چترال کے صدر منتخب ہو گیا دوسرے نمبر توصیف خو شحال 421ووٹ تیسرے نمبر پر حماد عثمان 219ووٹ، چوتھیں نمبر پر آفاق احمد 163ووٹ اور اظہر فہیم 135ووٹ لیکر پا نچویں نمبر پر رہے۔
01/09/2024
جمیع اللہ شیرازی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے رورل ڈیویلپمنٹ میں اپنے ایم فل مقالے کا کامیابی سے دفاع کرکے ایم فل مکمل کر لیا۔
جمیع اللہ شیرازی کا تعلق نشکوہ موڑکھو اپر چترال سے ہے اور یونیورسٹی آف پشاور سے Anthropology میں ماسٹر کرنے کے بعد سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن چترال میں بحیثیت Regional Program Manager کام کر رہا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.