Learning to Earning
31/08/2025
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس کا ارتقاء
تحریر : محمد سلیم
ایک وقت تھا جب چیٹ بوٹس صرف سادہ سوالات کے جوابات دینے تک محدود تھے۔ وہ پہلے سے طے شدہ جملوں میں بات کرتے اور معمولی تبدیلی پر ہی الجھ جاتے تھے۔ مگر آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت نے انہیں بالکل نئے دور میں پہنچا دیا ہے، جہاں یہ نہ صرف گفتگو کا بہاؤ سمجھتے ہیں بلکہ حالات اور صارف کے مزاج کے مطابق جواب بھی تشکیل دیتے ہیں۔
جدید چیٹ بوٹس "قدرتی زبان کی پروسیسنگ" پر مبنی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انہیں الفاظ کے پیچھے چھپے معنی سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ اب ایک صارف اگر مختلف انداز میں سوال پوچھے تو چیٹ بوٹ اسے ایک ہی مقصد سے جوڑ سکتا ہے اور درست جواب فراہم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسٹمر سروس میں استعمال ہونے والے بوٹس اب مختلف لہجوں، مختصر پیغامات اور ایموجیز کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اب "سیکھنے" کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مشین لرننگ ماڈلز انہیں وقت کے ساتھ بہتر بناتے ہیں، یعنی جتنی زیادہ بات چیت ہوتی ہے، یہ اتنے ہی مؤثر اور درست ہو جاتے ہیں۔ ای کامرس کمپنیوں میں یہ صارفین کے خریداری کے انداز کو پہچان کر متعلقہ مصنوعات تجویز کرنے لگے ہیں۔
ایک اور اہم پیش رفت "ملٹی موڈل چیٹ بوٹس" کی ہے، جو صرف متن ہی نہیں بلکہ تصاویر، آواز اور ویڈیو کے ذریعے بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔ ہیلتھ کیئر سیکٹر میں یہ بوٹس مریض کی ایکس رے یا ایم آر آئی رپورٹ کا ابتدائی تجزیہ کر کے ڈاکٹر کو فوری رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
کاروباری دنیا میں چیٹ بوٹس کا استعمال صرف کسٹمر سپورٹ تک محدود نہیں رہا۔ اب یہ مارکیٹنگ، سیلز، انسانی وسائل اور حتیٰ کہ پروجیکٹ مینجمنٹ میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ، آئی بی ایم اور گوگل جیسی کمپنیاں انہیں اپنے پلیٹ فارمز میں ضم کر کے کاروباری لاگت میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔
تاہم، اس ترقی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ پرائیویسی کے خدشات، غلط معلومات کے امکانات اور اخلاقی سوالات اب زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اسی لیے، ماہرین زور دیتے ہیں کہ ان ٹیکنالوجیز کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے، تاکہ سہولت کے ساتھ اعتماد بھی قائم رہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آنے والے چند سالوں میں چیٹ بوٹس نہ صرف انسانوں جیسی گفتگو کریں گے بلکہ ہماری روزمرہ زندگی اور کاروباری دنیا میں ایسے ضم ہو جائیں گے کہ ہم ان کے بغیر سوچ بھی نہیں سکیں گے۔
25/08/2025
کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں ڈیٹا سیکیورٹی کے نئے رجحانات
تحریر : محمد سلیم
کلاؤڈ کمپیوٹنگ نے کاروبار اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب کمپنیاں بھاری بھرکم سرورز اور مہنگے ہارڈویئر کے بجائے اپنا ڈیٹا کلاؤڈ میں محفوظ کر کے ہر جگہ سے رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ مگر سہولت کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی پیدا ہوا ہے، کہ اتنی قیمتی معلومات کو محفوظ کیسے رکھا جائے؟ اس چیلنج نے ڈیٹا سیکیورٹی کے نئے رجحانات کو جنم دیا ہے، جو تیزی سے ترقی پا رہے ہیں۔
سب سے پہلا رجحان "زیرو ٹرسٹ ماڈل" ہے۔ اس ماڈل میں کسی بھی صارف یا سسٹم پر بلاوجہ اعتماد نہیں کیا جاتا، چاہے وہ اندرونی نیٹ ورک کا ہی حصہ کیوں نہ ہو۔ ہر رسائی کے لیے تصدیق ضروری ہوتی ہے۔ مائیکروسافٹ اور گوگل جیسے ادارے اس ماڈل کو اپنے کلاؤڈ پلیٹ فارمز میں نافذ کر چکے ہیں تاکہ ممکنہ حملوں کو ابتدا میں ہی روکا جا سکے۔
دوسرا رجحان "ملٹی فیکٹر تصدیق" کا ہے۔ صرف پاس ورڈ پر انحصار اب پرانا تصور ہو چکا ہے۔ اب صارفین کو لاگ اِن کے لیے نہ صرف پاس ورڈ بلکہ ایک اضافی کوڈ، بایومیٹرک تصدیق یا سکیورٹی ٹوکن استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ہیکرز کے لیے کسی اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنا کئی گنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تیسرا رجحان "ڈیٹا انکرپشن" میں جدت کا ہے۔ اب صرف ڈیٹا کو محفوظ حالت میں انکرپٹ کرنا کافی نہیں، بلکہ "اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن" اور "ہومومورفک انکرپشن" جیسے جدید طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں ڈیٹا پروسیسنگ کے دوران بھی انکرپٹ رہتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر آئی بی ایم اور اے ڈبلیو ایس دونوں نے سرمایہ کاری کی ہے۔
چوتھا رجحان "اے آئی پر مبنی خطرات کی نشاندہی" ہے۔ اب مصنوعی ذہانت ایسے الگورتھمز فراہم کر رہی ہے جو مشکوک سرگرمیوں کو لمحوں میں پہچان سکتے ہیں۔ یہ نظام ڈیٹا ٹریفک میں غیر معمولی پیٹرنز کو پکڑ کر سیکیورٹی ٹیم کو فوری الرٹ بھیج دیتے ہیں۔
پانچواں رجحان "قانونی اور ریگولیٹری مطابقت" ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق قوانین سخت ہوتے جا رہے ہیں، جیسے یورپ میں جی ڈی پی آر اور امریکہ میں سی سی پی اے۔ کلاؤڈ فراہم کرنے والے ادارے اب ایسے ٹولز فراہم کر رہے ہیں جو کمپنیوں کو ان قوانین کے مطابق اپنا ڈیٹا منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
چھٹا رجحان "ڈیٹا لوکلائزیشن" کا ہے، جس میں ڈیٹا کو اسی ملک یا خطے کے اندر محفوظ کیا جاتا ہے جہاں سے یہ پیدا ہوا ہو۔ اس سے بین الاقوامی سائبر خطرات میں کمی آتی ہے اور قانونی تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں۔
یہ تمام رجحانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا مستقبل صرف سہولت اور کارکردگی میں نہیں، بلکہ مضبوط سیکیورٹی میں بھی پوشیدہ ہے۔ وہ کمپنیاں جو ان نئے طریقوں کو بروقت اپنائیں گی، نہ صرف اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکیں گی بلکہ صارفین کے اعتماد کو بھی ہمیشہ برقرار رکھیں گی۔
#انکرپشن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Chiniot
35400