Aas Ali Rajpoot

Aas Ali Rajpoot

Share

04/11/2025

**اعتبار کے پھول"**

وہ مجھ سے کالج کے باہر والی چائے کی دکان پر ملا۔ سلمان... اس کے نام میں ہی ایک میٹھا سا دھوکہ تھا۔ اس نے کہا تھا، "زبیدہ، تم دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو۔ میں تم سے شادی کروں گا، بس ایک بار اکیلے مل لوں تم سے۔"

ایک صبح، میں نے کالج جانے کا ڈرامہ کیا۔ ماں نے روٹی بنوا کر دی، بھائی کو اسکول چھوڑنے کے لیے کہا۔ میں نے اپنا سفید سا سالور کھوس پہنا اور سلمان کی بتائی ہوئی اس ویران سی کوٹھی میں جا پہنچی۔

"پی لو، یہ فروٹ جو ہے۔ تمہاری آنکھوں میں ایک تھکاوٹ سی ہے،" اس نے کہا اور وہ جوس کا گلاس میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

پھر کیا ہوا، مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ کمرے کی چھت گھوم رہی تھی۔ میری آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ جب آنکھ کھلی تو میں ایک ٹوٹے ہوئے پلنگ پر پڑی تھی۔ میرے جسم پر نیلے داغ تھے۔ میرا سفید سالور کھوس زمین پر پڑا تھا، میری عزت کی طرح پامال ہوا۔ میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا۔

**میری کہانی**

میرا نام زبیدہ ہے۔ ہمارا گھر چھوٹے سے قصبے میں تھا جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا تھا۔ میرے ابّو، عبدالخالق صاحب، ایک مدرسے میں استاد تھے۔ وہ بہت سادہ اور نیک دل انسان تھے۔ انہوں نے دوسری شادی اس لیے کی تھی کہ میری پہلی ماں کے بچے نہیں ہو پا رہے تھے۔ دوسری اماں سے ان کے چار بیٹے ہوئے۔ مگر ہمارے گھر میں "سوتیلا پن" نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اماں اماں تھی، چاہے وہ میری اپنی ماں ہو یا چھوٹی اماں۔

ابّو ہمیں ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین کرتے۔ میں ان سب سے بڑی تھی، ان کی "جیٹھی" بیٹی۔ میٹرک کے بعد میرا دل پڑھائی سے زیادہ ایک ایسے خواب میں کھو جاتا جو ہر لڑکی دیکھتی ہے۔ ایک ایسا چہرہ جو صرف میرے خوابوں میں موجود تھا، ایک ایسا رشتہ جو صرف میری خیالی دنیا میں ہی ممکن تھا۔ حالانکہ میں جانتی تھی کہ ہمارے گھر میں اس طرح کی باتیں گناہ ہیں، پھر بھی دل تو اپنی ہی دھن میں رہتا تھا۔

پھر وہ دن آیا۔ میں اور میری سہیلیاں ٹیوشن سے واپس آ رہی تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکا کھڑا تھا۔ صاف ستھرے کپڑے، بالوں میں کنگھی کی ہوئی لکیریں۔ اس کی نظر میری طرف تھی۔ اس دن سے وہ روز آتا، راستے میں کھڑا ہوتا، اور بس مجھے دیکھتا رہتا۔ ایک عجیب سی بے چینی میرے اندر جنم لینے لگی۔ اگر وہ نہ دکھائی دیتا تو پورا دن اداس گزرتا۔

پھر ایک دن میں اکیلی تھی۔ اس نے میرے قریب آ کر ایک پرانا موبائل فون میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

"اس میں بات کروں گا تم سے،" اس نے کہا اور جلدی سے چلا گیا۔

میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ گھر آ کر میں نے وہ فون اپنے کپڑوں والے الماری میں چھپا دیا۔ شام ہوتے ہی فون بجا۔ ایک میٹھی سی آواز نے کہا، "اسلام علیکم... میں سلمان ہوں۔ معاف کرنا، رات کا انتظار نہیں کر سکا۔ تمہیں دیکھے بغیر ایک لمحہ بھی لمبا لگ رہا ہے۔"

میں خاموش کھڑی اس کی آواز سنتی رہی۔ وہ بولتا رہا، "تمہاری آنکھیں، تمہاری مسکراہٹ... میں تمہارے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں۔"

اس کے بول میرے لیے ایک جادو تھے۔ ایک ایسا جادو جو میری سادہ سی دنیا کو ہلا کر رکھ دیتا۔ ہم روز بات کرنے لگے۔ اس نے مجھے فون چلانا سکھایا۔ میں نے اسے خاموش رکھنا سیکھ لیا۔ گھر والوں کو کبھی پتہ نہ چلا کہ ان کی بیٹی کی جیب میں ایک پوری دنیا چل رہی ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ میں نے میٹرک پاس کر لیا۔ ابّو کہتے تھے، "بیٹی، اب گھر بیٹھو، شادی کا وقت آ گیا ہے۔" مگر سلمان نے مجھے کالج جانے پر اکسایا۔ میں نے ضد کی۔ آخرکار، چھوٹی اماں نے میری سفارش کی اور ابّو نے ہاں کر دی۔

کالج کا پہلا دن تھا۔ ابّو نے دروازے تک چھوڑا۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "زبیدہ، تم میری بڑی بیٹی ہو۔ تمہارے اعمال صرف تمہارے نہیں، ہم سب کے نام ہیں۔ ہمارا اعتبار مت توڑنا۔"

میں نے سر جھکا کر ہاں میں سر ہلایا۔ مگر میرے دل میں تو سلمان بس چکا تھا۔ وہ سلمان جو آج مجھے ایک ویران کوٹھی میں چھوڑ کر چلا گیا تھا... میری عزت کو روند کر۔

**اخلاقی پیغام:**
دل کے جذبات کو عقل کی کسوٹی پر ضرور پرکھیں۔ محبت اعتبار مانگتی ہے، بے راہ روی نہیں۔ ❤️‍🔥
ماں باپ کا اعتبار دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہے، اسے کبھی ضائع مت ہونے دیں۔ 🤲
خود کو کبھی اس قدر کمزور مت سمجھیں کہ دوسرے کی محبت ہی آپ کی پہچان بن جائے۔ 💔

نئے آنے والے تمام ممبران کادل کی اتھاہ گہرائیوں سے خیرمقدم ہے ہمارے اس چینل میں۔۔

تمام احباب سے گزارش ہے کے ہمارے گروپ کالنک اپنے تمام دوست احباب عزیزواقارب میں شیئر کریں شکریہ

خیراندیش:
آس سٹور اینڈتمام ایڈمن پینل

https://whatsapp.com/channel/0029VbBsY34AzNc3oUuUbK3R

Want your business to be the top-listed Advertising & Marketing Company in Chichawatni?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Chichawatni
57200