MUSLiiM
11/05/2026
مسجدِ نبوی کی پہلی مئذنہ ایک نہایت سادہ مگر عظیم روحانی یادگار تھی، جہاں سے اسلام کی ابتدائی اذانوں کی صدائیں بلند ہوا کرتی تھیں۔
تاریخی روایات کے مطابق اس مئذنہ کی شکل ایک مربع ستون کی مانند تھی، جس پر ہمارے آقا حضرت بلال حبشی چڑھ کر اذان دیا کرتے تھے۔ اس پر چڑھنے کے لیے لکڑی کے زینے یا سیڑھیاں استعمال ہوتی تھیں، جنہیں “اقتاب” کہا جاتا تھا۔
یہ مقام دراصل ایک چھوٹی مربع شکل کی “مشربہ” یعنی اونچی بالکونی نما جگہ تھی، جو ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمر کے گھر کے اوپر واقع تھی۔
چونکہ یہ جگہ مسجدِ نبوی کے قریب اور نسبتاً بلند تھی، اس لیے اسے اذان دینے کے لیے منتخب کیا گیا، تاکہ اذان کی آواز دور تک پہنچ سکے۔
یہ وہ مبارک مقام تھا جہاں سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی پُرسوز آواز میں “اللہ اکبر” کی صدائیں مدینہ کی فضاؤں میں گونجتی تھیں، اور اہلِ ایمان نماز کے لیے مسجدِ نبوی ﷺ کی طرف لپکتے تھے۔
ﷺ
10/05/2026
Madinah 😘
Day and night view of the Royal Clock Tower
08/05/2026
One Place, Billion Feelings ✨🤍
.
.
🫶
.
.
.
Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙
07/05/2026
One Place, Billion Feelings ✨🤍
.
.
🫶
.
.
.
Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙
06/05/2026
One Place, Billion Feelings ✨🤍
.
.
🫶
.
.
.
Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙 #
#
04/05/2026
واقعۂ کربلا تاریخِ اسلام کا وہ باب ہے جو صبر، حق اور قربانی کی لازوال مثال بن گیا۔ یہ واقعہ 10 محرم 61 ہجری (680 عیسوی) کو کربلا کے میدان میں پیش آیا، جہاں امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کا راستہ اختیار کیا۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہونے کے ناتے، امام حسین رضی اللہ عنہ حق و سچائی کے علمبردار تھے۔ جب یزید بن معاویہ کی بیعت کا مطالبہ کیا گیا، تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اسے انصاف اور دین کی روح کے خلاف سمجھتے تھے۔ آپؓ کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ امت کو حق کا راستہ دکھانا تھا۔
امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے اہلِ خانہ اور چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ مدینہ سے نکل کر مکہ اور پھر کربلا پہنچے۔ کربلا کے میدان میں انہیں اور ان کے قافلے کو محصور کر لیا گیا، حتیٰ کہ کئی دن تک پانی بھی بند کر دیا گیا۔ شدید گرمی، پیاس اور کم تعداد کے باوجود امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ثابت قدم رہے۔
10 محرم، جسے یوم عاشورہ کہا جاتا ہے، حق اور باطل کے درمیان آخری معرکہ ہوا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہوتے گئے، لیکن کسی نے بھی حق کا ساتھ چھوڑنا قبول نہ کیا۔ یہ وہ لمحے تھے جب وفاداری، صبر اور ایمان اپنی بلند ترین مثال پر پہنچ گئے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے بے مثال بہادری، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ وہ جانتے تھے کہ تعداد کم ہے، وسائل محدود ہیں، مگر ان کا یقین مضبوط تھا کہ سچائی کبھی مٹ نہیں سکتی۔ آخرکار آپؓ نے بھی جامِ شہادت نوش کیا، مگر اپنے خون سے یہ پیغام دے گئے کہ ظلم کے آگے جھکنا ایک مومن کی شان نہیں۔
واقعۂ کربلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق کے لیے کھڑا ہونا، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، سب سے بڑی کامیابی ہے۔ امام حسین علیہ رضی اللہ عنہ کی قربانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک روشنی ہے—جو ہمیں سکھاتی ہے کہ عزت اور سچائی کے ساتھ جینا ہی اصل کامیابی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Charsadda
24420