Mast Pedia

Mast Pedia

Share

28/03/2026

*انقلاب اسلامی ایران کے تیسرے رہبر انقلاب،سید مجتبیٰ خامنہ ای کی شادی کی سبق آموز داستان*

(علامہ امین شہیدی کے پیج سے)

( ڈاکٹر حداد عادل کی زبانی)
سال 1998 کی بات ہے، ایک خاتون نے ہمارے گھر فون کیا اور کہا کہ ہم (رشتہ دیکھنے کے لیے) آنا چاہتے ہیں۔ میری اہلیہ نے جواب دیا: 'ہماری بیٹی ابھی ہائی اسکول کے چوتھے سال میں ہے اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے۔' انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ 'اگر ممکن ہو تو ہم آکر بیٹی کو دیکھ لیں'۔ لیکن میری اہلیہ نے قبول نہیں کیا۔
پھر میری اہلیہ نے ان سے پوچھا کہ 'آپ اپنا تعارف تو کروائیں'۔ انہوں نے جواب دیا: 'میں رہبرِ معظم (سید علی خامنہ ای) کی اہلیہ ہوں'۔ میری اہلیہ یہ سن کر گھبرا گئیں اور دوبارہ سلام دعا کی اور کہا: 'ہم نے اب تک آنے والے تمام رشتوں کو انکار کیا ہے، لیکن آپ انتظار کریں، میں ڈاکٹر صاحب (حداد عادل) سے بات کروں، پھر آپ کو مطلع کرتی ہوں'۔ اس وقت میری اہلیہ 'ہدایت ہائی اسکول' کی پرنسپل تھیں۔
مجھ سے مشورے کے بعد یہ طے پایا کہ وہ لوگ اسکول آئیں اور وہاں بیٹی کو دیکھ لیں تاکہ نہ تو بیٹی کو معلوم ہو اور نہ ہی (پسند نہ آنے کی صورت میں) اسے کوئی ذہنی ٹھیس پہنچے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق آغا (رہبرِ معظم) کی اہلیہ اسکول کے دفتر میں آئیں، اسے دیکھا اور چلی گئیں۔
چند دن گزرے تو میں کسی کام سے آغا (رہبرِ معظم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آغا نے فرمایا: 'اہلیہ نے استخارہ کیا ہے، جواب اچھا نہیں آیا'۔
اس واقعے کو ایک سال گزر گیا۔ ایک بار پھر آغا کے گھر سے فون آیا کہ 'ہم رشتہ لے کر آنا چاہتے ہیں'۔ میری اہلیہ نے پوچھا کہ 'آپ کا فیصلہ کیسے بدل گیا؟' بتایا گیا کہ: 'ہماری خاتون (رہبر کی اہلیہ) استخارہ پر بہت یقین رکھتی ہیں اور پہلی بار چونکہ استخارہ اچھا نہیں تھا، اس لیے وہ پیچھے ہٹ گئی تھیں۔ لیکن چونکہ آپ کی بیٹی ایک باحجاب، باصلاحیت اور اچھی لڑکی ہے، اس لیے انہوں نے دوبارہ استخارہ کیا جو اس بار بہت اچھا آیا ہے، اگر اجازت ہو تو ہم آئیں'۔
اس وقت ہماری بیٹی ڈپلوما کر چکی تھی اور یونیورسٹی کے داخلہ امتحان میں بھی شریک ہو چکی تھی۔ ابتدائی مراحل کے بعد ایک دن آغا کے بیٹے ( یعنی موجودہ رہبر انقلاب آیۃ اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای ) اور ان کی والدہ دلہن کے لیے تحفے کے طور پر کپڑے کا ایک تھان لے کر آئے، ہم نے بات چیت کی۔ آغا کے جانے کے بعد میں نے بیٹی کی رائے پوچھی تو وہ راضی تھی۔
چند دنوں بعد ہم آغا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آغا نے فرمایا: 'ڈاکٹر صاحب! اب ہم رشتہ دار بن رہے ہیں'۔ میں نے عرض کیا: 'کیسے؟' فرمایا: 'گھر والے گئے تھے، انہیں لڑکی پسند آئی ہے اور بات چیت میں بھی مکمل اتفاق ہو گیا ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟ ' میں نے کہا: 'آغا! ہمارا اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے'۔
آغا نے (نہایت سادگی سے) فرمایا: 'نہیں! آپ ڈاکٹر اور یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور آپ کی اہلیہ بھی ایسی ہی ہیں۔ آپ کا طرزِ زندگی (معاشی طور پر) مناسب ہے، لیکن میری زندگی ایسی نہیں ہے۔ اگر میں اپنا تمام ساز و سامان لدوانا چاہوں تو میری کتابوں کے علاوہ سارا سامان ایک چھوٹی پک اپ گاڑی (وانٹ) میں آ جائے گا۔ یہاں بھی صرف دو اندرونی کمرے ہیں اور ایک بیرونی کمرہ جہاں حکام اور ذمہ داران مجھ سے ملاقات کرتے ہیں۔ میرے پاس گھر خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ہم نے ایک گھر کرائے پر لیا ہے جس کی ایک منزل پر بڑے بیٹے اور ایک پر مجتبیٰ ( یعنی موجودہ رہبر انقلاب آیۃ اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای) رہے گا۔'
آغا نے مزید فرمایا: 'آپ اپنی بیٹی سے بات کر لیں کہ وہ یہ خیال نہ کرے کہ چونکہ وہ رہبر کی بہو بن رہی ہے تو ذہن میں (آسائشوں کے) کچھ خواب سجا لے۔ ہم اس طرح زندگی گزارتے ہیں۔ جبکہ آپ کی زندگی نسبتاً بہتر ہے۔ اب اگر وہ اس زندگی میں آنا چاہتی ہے تو یہ تھوڑا مشکل ہے۔ مجتبیٰ ( یعنی موجودہ رہبر انقلاب آیۃ اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای ) ابھی عالم (روحانی) کے لباس میں بھی نہیں ہے۔ وہ قم جانا چاہتا ہے تاکہ تعلیم مکمل کر کے روحانی بنے۔ یہ سب باتیں اسے بتا دیں تاکہ وہ جان لے'۔
میں نے اپنی بیٹی کو سب بتا دیا اور اس نے قبول کر لیا۔ آغا کے پاس صدر بننے سے پہلے جنوبی تہران میں ایک گھر تھا جسے انہوں نے کرائے پر دے رکھا ہے اور اسی سے اپنے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں۔ وہ 'رہبری' کی کوئی تنخواہ نہیں لیتے اور نہ ہی شرعی وجوہات (بیت المال) کے پیسوں سے ذاتی خرچہ کرتے ہیں!
جب نکاح کی تقریب اور مہر وغیرہ کی بات ہوئی تو آغا نے فرمایا: 'مہر کے معاملے میں اختیار آپ کی بیٹی کا ہے۔ لیکن میں لوگوں کا نکاح پڑھاتا ہوں تو میری روایت رہی ہے کہ 14 سکوں سے زیادہ پر نکاح نہیں پڑھاتا اور اب تک نہیں پڑھایا۔ اگر آپ چاہیں تو 14 سکوں سے زیادہ مہر مقرر کر سکتے ہیں، لیکن پھر نکاح کا خطبہ کوئی دوسرا شخص پڑھے۔ میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن چونکہ میں نے اب تک عوام کے لیے 14 سے زیادہ سکوں پر نکاح نہیں پڑھا، تو اپنی بہو کے لیے بھی نہیں پڑھوں گا'۔
میں نے کہا: 'آغا! ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بیٹی کی والدہ سے بات کرتا ہوں، میرا نہیں خیال کہ انہیں کوئی اعتراض ہو گا'۔ نکاح کی تقریب کے بارے میں فرمایا: 'آپ چاہیں تو کسی ہال (تالار) میں تقریب کر سکتے ہیں، لیکن میں اس میں شرکت نہیں کر سکوں گا'۔ میں نے کہا: 'آغا! جیسے آپ کی مرضی'۔
فرمایا: 'ایسا کرتے ہیں کہ ان دو اندرونی کمروں اور ایک بیرونی کمرے کی گنجائش نکالتے ہیں۔ جتنے لوگ سما سکیں، آدھے ہم دعوت دیتے ہیں اور آدھے آپ'۔ ہم نے حساب لگایا تو 150 سے 200 سے زیادہ لوگوں کی جگہ نہیں تھی۔ ہم اپنے قریبی ترین رشتہ داروں کو بھی نہیں بلا سکتے تھے، لیکن ہم نے قبول کر لیا۔
آغا نے رشتہ داروں کے علاوہ اس وقت کے صدر جناب خاتمی، جناب ہاشمی (رفسنجانی)، جناب ناطق نوری، تینوں قوہ مقننہ کے سربراہان اور ڈاکٹر حبیبی کو بھی دعوت دی۔ کھانے میں بھی صرف ایک قسم کی ڈش تیار کی گئی تھی۔"

21/03/2026

سکردو بلتستان : نماز عید کے خطبے میں علامہ شیخ جواد حافظی نائب امام جمعہ مرکز امامیہ کا فرمانا ہے افواج پاکستان کے 8 لاکھ فوجیوں میں سے 3 لاکھ فوجی شیعہ ہیں، تم (عاصم منیر) نے ان 3 لاکھ فوجیوں کی توہین کی ہے ان سے معافی مانگو ورنہ (انہیں محاذ سے واپس پیچھے ہٹنے کا حکم جاری کریں گے )

19/03/2026

*میاں بیوی ایک دوسرے پر کب حرام ہوجاتے ہیں؟*

💝 *مومن میاں بیوی* ❤️

اس کمیونٹی میں میاں بیوی کا آپسی رشتہ خوبصورت اور بہترین بنانے کیلئے اسلامی نصیحتیں اور معلومات مہیا کی جائیں گی، ان شاءاللہ

19/03/2026

Reality

19/03/2026

*فریدہ خانم* جو کہ
*دختر شھید* مرتضیٰ مطھری رح
*ھمسر شہید* علی لاریجانی
*مادر شھید* مرتضی لاریجانی ہیں۔
کا بصیرت افروز پیغام
*ما رأیتُ الّا جمیلا*

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Najaf?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Najaf