Farzana Rida Qidwai
06/05/2026
ایک گھر کی خدمت کی، ایک دل سے محبت کی
پیکِ حسن کے خلوص سے پھر ہنر بھی زہرا نکلا
صبر کی دہلیز پر وفا شعار نے جو رکھ دیے قدم
ان کے حوصلہ بھی پھر سمندر سے گہرا نکلا
وفا کی راہ میں اس نے ہر غم کا دامن تھام لیا
زندگی کے امتحان میں پھر ہر رنگ صحرا نکلا
گھر کی رونق اس کی مسکان سے جگمگا اٹھی
دیوی کے ہاتھ پر جب فصلِ گل کا پھول سنہرا نکلا
ہر آزمائش میں ردا اس کا ساتھ نہ چھوڑا ہم نے
تھاما جو معصوم مقصدِ حیات تو رنگ بھی ہرا نکلا
#ردا
صفحہ ہستی جو مٹا گیۓ ہو کر دلِ برداشتہ انھیں کیا معلوم
کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں
#ردا
hamare badalne me kuchh bhi hunar hamra na tha
log milte rahe ham badalte rahe isme qasoor hamara na tha
ak muddat se ham pareshan haal rahe is bina par
ki bewajah ham pareshan huy y dastoor bhi hamara na tha
Ham Alame dastgeri ke zere saya rah kar bhi shamil e justju rahe rida
phir samajh aaya ki be wajah hi tashnagi ka fatoor hamara na tha.
ہم پر بدلنے میں کچھ بھی ہنر ہمارا نہ تھا
لوگ ملتے رہے ہم بدلتے رہے اس میں قصور ہمارا نہ تھا
ایک مدت سے ہم پریشان حال رہے اس بنا پر
کہ بے وجہ ہم پریشان ہوئے یہ دستور بھی ہمارا نہ تھا
ہم عالمِ دستگیری کے زیر سایہ رہ کر بھی شاملِ جستجو رہے
پھر سمجھ آیا کہ بے وجہ ہی تشنگی کا فتور ہمارا نہ تھا
#ردا
1.
Click here to claim your Sponsored Listing.