Arifi Network
۔محمد مدثر رضامصباحی ،چھیتے مئوجامع مسجد ،پریاگ راج
بد گمانی شیطان کی ایک چال ہے۔۔
بد گمانی انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے جو نہ صرف اس کی ذاتی زندگی کو متاثر کر تی ہے بلکہ معاشرتی تعلقات کو بھی خراب کر تی ہے،نیز رشتوں میں دراڑ،معاشرے میں جھگڑے،اور بد اعتمادی کو جنم دیتی ہے۔یہ دراصل شیطان کی ایک چال ہےجو انسان کے دل میں وسوسے ڈال کر دوسروں سے بد ظن کر دیتا ہے۔بد گمانی کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے بارے میں بغیر تحقیق یا ثبوت کے برا گمان رکھنایاشک کرنا،اور کسی کے قول و فعل کو غلط رخ دے دینا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"یاایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض االظن اثم" ترجمہ:اے ایمان والوں!بہت زیادہ بد گمانیوں سے بچو،یقین جانو کہ بعض بد گمانی گناہ ہے۔ (الحجرات )
مفسر قرآن قاضی ثناءاللہ پانی پتی قدس سرہ تشریح کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ ظن کی چند قسمیں ہیں:(١)وہ ظن جس کی اتباع واجب ہے جیسے اللہ اور مسلمان مردوں،عورتوں کے متعلق اچھا گمان رکھنا ۔(٢)وہ ظن جس کی اتباع حرام ہے جیسے مومن مردوں،عورتوں کے متعلق برا گمان رکھنا۔(٣)ان دونوں ظنون کے علاوہ بعض امور کے متعلق گمان کرنا۔
اسی لیے اللہ تعالٰی نے بہت زیادہ گمان کرنے سے احتیاطا اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔چنانچہ مومن بندوں کو بد گمانیوں سے بچنا چاہیے،کیونکہ کبھی کبھی اس طرح کا گمان گناہ میں شمار ہو تے ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے۔ ترجمہ: بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ اب رسول اور مو منین کبھی بھی اپنے گھروں کی طرف نہیں لو ٹیں گے یہی گمان تمہارے دلوں میں خوش نما بن گیا تھا،حالانکہ تم نے بہت برا گمان کیا تھااور تم ہلاک ہونے والے ہو۔(فتح)٢١)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کا بیان فرمایا ہے جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے بارے میں ہتھیاروں کے بغیر جانے کی وجہ سے برا گمان کیا تھاکہ یہ لوگ اپنے گھروں کی جانب کبھی بھی لوٹ نہ آسکیں گے ،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے برے گمان کی تردید کی اور انہیں ہلاک ہونے والی قوم قرار دیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ترجمہ:ایسا کیوں نہ ہواکہ جب تم نے اس بات کو سناتو مومن مردوخاتون اپنوں پر نیک گمان کرتےاور یہ کہتے کہ وہ تو صاف صاف بہتان ہے(النور ١٢)
جب منافقوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پرجھوٹی تہمت لگائی تھی تب اللہ نے پھٹکار لگاتے ہوے فرمایا:ایمان کا تقاضا تو یہ تھاکہ ان پر لعن، طعن کے بجاۓاچھا گمان کرتےاور کہتے کہ یہ تو واضح بہتا ن ہے۔بدگمانی سے پرہیز کی تلقین اور حسن ظن رکھنے کی ترغیب دیتے ہوے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ترجمہ:تم لوگ برے گمان سے بچو! کیونکہ بد گمانی نہایت جھوٹی بات ہے۔ایک دوسری روایت میں ہے۔ ترجمہ:بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بد گمانی کو نا پسند فرمایاہے۔
امام محمدغزالی قدس سرہ لکھتے ہیں: شیطان آدمی کے دل میں بدگمانی ڈالتاہے،چنانچہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ شیطان کی تصدیق نہ کرے اور اس کو خوش نہ کرے حتی کہ اگر کسی کے منھ سے شراب کی بو آرہی ہوتوبھی اس پرحد لگانا جائز نہیں،کیونکہ ایسا احتمال ممکن ہے کہ اس نے شراب کا ایک گھونٹ پی کر کلی کر دیا ہو،یا کسی نے اس کو جبرا شراب پلا دی ہوتو وہ دل سے بد گمانی کی تصدیق کرکے شیطان کو خوش نہ کرے۔رسول اللہ صلّی علیہ وسلم نے فرمایاکہ : اللہ تعالیٰ نے مسلمان پر مسلمان کے خون اس کے مال اور اس کے متعلق بد گمانی کو حرام کر دیاہے،اسی لیے جب تک وہ خود مشاہدہ نہ کر لے یا اس پر دو نیک گواہ قائم نہ ہو جائے اس وقت تک کسی بھی مسلمان کے متعلق بدگمانی جائز نہیں ہے۔پھرجب اس طر ح نہ ہواور شیطان تمہارے دل میں کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی کا وسوسہ ڈالے تو تم اس وسوسہ کو دورکرو!اور اس بات پر قائم رہوکہ اس کا حال تم پر پوشیدہ ہےاور اس شخص کے متعلق نیکی پر قائم رہنےاور گناہ سے باز رہنے کی دعا کرو اور شیطان کو ناکام ونامراد کر کے اس کو غضب میں لاؤ!(احیاء العلوم ج:٣ص:١٣٥)
حافظ یوسف بن عبداللہ مالکی لکھتے ہیں:بےشک اللہ تعالی نے مسلمانوں کے خون،عزت ،جان کو حرام قرار دیا ہے اور فرمایا: مسلمانوں کے متعلق خیر کے سوااور کوئی گمان نہ کیا جائے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کسی مسلمان شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات سن کر اس کے متعلق بدگمانی کرے ،جب کہ ان کی بات کا کوئی نیک معنی نکل سکتا ہو۔ حضرت سفیان نے کہا کہ ظن کی دو قسمیں ہیں(١) وہ جس میں گناہ ہے(٢) وہ ظن جس میں گناہ نہیں ہے،جس ظن میں گناہ ہے وہ یہ ہے جس کے بارے میں یہ کلام کیا جائے کہ فلاں عمل گناہ ہے جس ظن میں گناہ نہیں ہے،یہ وہ ظن ہے جس کے بارے میں یہ کلام نہ کیا جائے۔
ان آیات قرانیہ، احادیث کریمہ اور علماء اسلام کے اقوال سے یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو گئی کہ بدظنی کی ہی وجہ سے سماج میں نفرت، دشمنی،فتنہ و فساد جیسی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جب کہ حسن ظن کی وجہ سے معاشرے میں اخوت و محبت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
13/03/2025
پیارے بیٹے !
اللہ کریم تمہیں سلامت رکھے !
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہواور زوالِ نعمت سے پناہ مانگو !
کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ تمہیں خط لکھوں ، تم نے درسِ نظامی میں داخلہ تو لے لیا لیکن یاد رکھنا یہ راہ کوئی آسان بھی نہیں قدم قدم پر ازلی دشمن ابلیس سائے کی طرح ہمارے ساتھ ہے اور چاہتا ہے کہ ہمیں بہکا دے ۔
میں نے ایک قصہ پڑھا توسوچا تمہیں ضرور سناؤں یہ بیسویں صدی کی ابتداء کی بات ہے عبد اللہ القصیمی نام کا ایک بہت بڑا علمی نام دنیا کےسامنے آیا ۔۔۔ عبد اللہ سعودی عرب میں پیدا ہوا اور اس وقت دنیاکے سیاسی حالات میں بہت بڑی تبدیلی تھی خلافتِ عثمانیہ اپنی آخری سانسیں لے چکی تھی اور سعودی عرب میں وہابی مذہب کی ترویج واشاعت زور و شور سے جاری تھی ۔اسی ماحول میں القصیمی نے آنکھ کھولی ۔
القصیمی کی ذہانت کا جواب نہیں تھا، بچپن ہی سے حساس اور محنتی تھا جوانی میں تو القصیمی کی صلاحیتوں نے وہ علمی جوہر دکھائے کہ علمی دنیا حیران رہ گئی ۔۔۔
1927 کے دوران جامعہ ازہر مصر میں القصیمی نے داخلہ لیا اور بیس سال کے اس طالب علم نے ازہر کے فلاسفرز اور اسکالرز کی ناک میں دم کرکے رکھا، القصیمی نے ازہر کے نامور اسکالر یوسف دجوی کی کتاب کے رد میں "البروق النجدية" کتاب لکھ کر تہلکہ مچا دیا، کتاب عرب دنیا میں پھیل گئی ازہر یونیورسٹی نے ان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا، انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا ۔
ان کی دوسری کتاب "الصراع الإسلام و الوثنية" اسلام اور نیشنل ازم کا ٹکراؤ اس کتاب نے تو دھوم ہی مچادی۔
کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ عرب دنیا میں القصیمی ابن تیمیہ ثانی سے پکارا جانے لگا، مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ القصیمی کی مدح میں امام کعبہ نے خانہ کعبہ میں قصیدہ پڑھا۔
اس زمانے میں عرب کے علماء یہ کہنے لگے کہ عبداللہ نے یہ کتاب لکھ کر جنت کا مہر ادا کر دیا ہے ۔
عبد اللہ القصیمی نے دفاع اسلام پر جو کتب لکھیں اس کی شہرت کی گونج عرب دنیا میں اپنا لوہامنوا چکی تھی ۔۔۔لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ یہ شخص اسلام سے باغی ہو گیا ۔۔۔دائرہ اسلام سے نکل گیا او رملحد بن گیا ۔
میرے بیٹے ! یہ محض کوئی کہانی نہیں بلکہ داستانِ عبرت ہے ۔۔۔جو شخص ساری زندگی اسلام کی وکالت کرتا رہا اب اس کا قلم اسلام کے خلاف ہی زہر اگلنے لگا۔۔۔ اس نے اسلام کے خلاف ایک کتاب "هذي هي الاغلال" یہ ہیں زنجیریں ،لکھ ڈالی جس میں انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کے پیچھے رہنے میں نمازوں کے اوقات سبب ہیں، عبادات کو انہوں نے گلے میں پڑی زنجیروں سے تشبیہ دی اور خدا کے وجود کا انکار کردیا۔
عرب دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا ، اس کتاب کا کئی عرب علماء نے جواب بھی دیا اور اس پر شدید تنقید بھی کی گئی عرب دنیا میں اس کتاب پر پابندی لگا دی گئی ۔
اسے توبہ کی توفیق بھی نصیب نہیں ہوئی اور یہ اسی الحاد کی حالت میں 1996 میں مر گیا ۔
میرے بیٹے ! اللہ سے ڈرتے رہنا !
بدبختی بتاکر نہیں آتی جس کیلئے حرم میں دعا ہوتی تھی جس کے لیے اہل علم کی مجالس میں کہنےوالے یہ کہتے تھے کہ القصیمی نے جنت کا مہر ادا کردیا اس کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا ۔۔۔
تم یقیناً جاننا چاہو گے کہ وہ اسباب کیا تھے جس کی وجہ سے القصیمی کو ان حالات سے دو چار ہونا پڑا ۔
اس کے بارے میں ایک بات یہ بہت مشہور ہوئی کہ یہ بیروت میں ایک خوب صورت عیسائی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہو گیا تھا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہو گیا ۔
میرے بیٹے !تو ایک بات یہ جان لو ! فسق و فجور سے خود کو دور رکھنا اور ہر نا محرم سے ایک فاصلہ لازمی رکھنا۔
دوسری وجہ غرور و تکبرتھا ، القصیمی اپنی تعریف اور علمی مقام کے سامنے کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس میں ، میں بھی بہت تھی اس غرور و تکبر نے اس کو تباہ کر دیا۔
تیسری وجہ بحث و مباحثہ تھا،اسے بحث کرنے کی عادت تھی ، یہ ہر چیز کو بحث کے میزان پر رکھتا شک کے ترازوں میں تولتایہاں تک کہ یہ اپنے وجود پر بھی سوالات اٹھاتا تھا۔
چوتھی وجہ، مخالف فکر کی کتب کا حد سے زیادہ غیر ضروری مطالعہ تھا۔
میرے بیٹے ! باطل قوتیں بھی فکر کی دنیا میں اپنے ہتھیاروں کےساتھ ہی حملہ آور ہوتی ہیں ۔۔۔کبھی کبھی ان کی زد میں آنے سے بڑے سے بڑا علامہ ، فہامہ بھی نہیں بچ پاتا۔ہمہ وقت اللہ کافضل و کرم طلب کرتے رہنا ۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعاکرتے ہیں
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ(۸)
اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بے شک تو ہے بڑا دینے والا
میرے بیٹے !
تمہاری شہرت ، نیک نامی ، تمہاری خدماتِ دین ، تمہاری تصانیف و تقاریر سب اسی وقت کامیاب قرار پائیں گی جب تمہارا خاتمہ بالخیر ہو،بس اس وقت یہ دیکھا جائے گا کہ جام ٹوٹا ہے یا توبہ ۔۔۔
ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا اپنے انجام کا سوچنا کہ خاتمہ بالخیر ہو جائے ۔
اللہ تعالیٰ تمہارا حامی و ناصر ہو
والسلام
اسمٰعیل بدایونی
10 مارچ 2025
12/03/2025
Ji
12/03/2025
My loved
12/03/2025
06/01/2025
Wazu ko torne wali chizayan by Arifi Network وضو کو تو ڑنے والی چیزیں ❤️
06/01/2025
faraiz e wazu by Arifi Network Aao din sikhaye
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
733208
06/01/2025