Wowwords
07/07/2026
تحریر : سید فہیم ساجد
آج جنم دن ہے سرائیکی شاعری کے بخت آور جناب رفعت عباس کا جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے سرائیکی وسیب کے ساتھ ساتھ ہر وسیب کے نہتے ،نمانڑے اور بے زبان مقامی لوگوں کی ترجمانی کی ۔ وہ حکمت سے بھرپور کلام کرتے ہیں لیکن ان کی اس حکیمانہ سادہ بیانی کے کیا کہنے ۔ شعر میں اظہار کریں تو لگتا ہے جیسے ہم کوئ روح افزا مشروب پی رہے ہوں ۔
نثر لکھی تو صدیوں کو صفحوں کی زینت بنا دیا ۔ ہر مظلوم کا مقدمہ قائم کرنے والی یہ شخصیت صرف قلم قرطاس کی حد تک خوبصورت نہیں بلکہ ان کی زندگی بھی سراپا سادگی اور عالمانہ ہے ۔ صاحب مطالعہ شخص دوسروں کو بھی علم کے چراغ تھماتا ہے ۔ وہ مقامی آدمی کے وکیل ہیں۔ نہ صرف مقامی آدمی کے بلکہ اس دھرتی پر ہر نظر انداز اور حاشیہ پر دھکیلے گئے ذی روح کی آواز بنتے ہیں۔ فطرت سے پیار کرنے والا یہ شخص ہمیں
"مقامی مَت" سے جوڑتا ہے۔ آپ کا کلام ہمیں ماں بولی کی توانائ سے روشناسی دیتا ہے۔ ان کے شاعرانہ اظہار میں ان مجموعوں نے نئے نینگروں کو نئے افق اظہار بخشے۔ ان کے مجموعہ ہائے شاعری مقامی َمت کو آفاقی مَت سے متصل کرتے ہیں۔
عشق اللہ سائیں جاگیا ، مکھ آدم دا ،پڑچھیاں اتے پھل ، ایں نارنگی اندر ، بھوندی بھوئیں تے ۔۔۔۔۔
نثر نگاری میں آپ نے باکمال شہرہ آفاق ناول عطا کئے ہیں۔ جن میں "نیلیاں سلہاں پچھوں " ، لون دا جیون گھر اور مسخریاں دا میلہ ۔۔۔ لائق قرات ہیں۔
نوجوانوں کے لئے بھرپور حوصلہ بخش شخصیت ہیں۔ ہم سب کے دلبر سئیں رفعت کے لئے بہت دعائیں
سکھی صحت نال جیوو 🌹❤️💓
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.