Hussaini Knowledge
قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت
اقساط 14 تا 17
قسط نمبر 14: دشمنانِ مہدیؑ کا انجام
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد سب سے پہلے وہ باطل قوتوں کا خاتمہ کریں گے جنہوں نے زمین کو ظلم و فساد سے بھر دیا ہے۔ ان میں نمایاں دشمن سفیانی اور دجال ہیں۔
سفیانی شام سے اپنی فوج کے ساتھ نکلے گا مگر امامؑ کے مخلص سپاہیوں کے ہاتھوں شکست کھائے گا۔
دجال کا فتنہ بھی اپنے عروج پر ہوگا لیکن آخرکار نابود ہوگا۔
یہ انجام اس بات کی دلیل ہوگا کہ باطل کبھی حق کے مقابلے میں باقی نہیں رہ سکتا۔
(الغيبة للنعمانی، ص 279؛ بحار الانوار، ج 52، ص 354)
قسط نمبر:15
امامؑ کا عالمی سفر و مراکز حکومت
امام مہدی علیہ السلام کے عالمی نظامِ عدل کے لئے متعدد مراکز ہوں گے۔
کوفہ امامؑ کا دارالحکومت ہوگا۔
مسجد سہلہ امامؑ کا حکومتی مرکز اور دفتر ہوگا۔
بیت المقدس ایک اہم مقام ہوگا جہاں بڑے عالمی فیصلے ہوں گے۔
امامؑ مختلف علاقوں کا سفر کریں گے تاکہ عدل قائم کریں، ظلم کا خاتمہ کریں اور علم و معرفت کو عام کریں۔ یہ سفر صرف فتوحات نہیں بلکہ انسانیت کے لئے عدل و انصاف کے قیام کا اعلان ہوں گے۔
(بحار الانوار، ج 53، ص 11؛ كمال الدين، ج 2، ص 671)
قسط نمبر:16
ظہور کے بعد کا پہلا جمعہ اور خطبہ
روایات کے مطابق ظہور کے بعد امام مہدی علیہ السلام کا پہلا جمعہ کوفہ میں ہوگا۔ اس دن امامؑ منبر پر تشریف لا کر ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمائیں گے:
"اَیُّهَا النَّاسُ! اَنَا بَقِيَّةُ اللّٰهِ فِي أَرْضِهِ، اَنَا حُجَّةُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ، اَنَا اِمَامُكُمُ الْقَائِمُ… اَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ يُحَاجُّنِي فِي كِتَابِ اللّٰهِ فَأَنَا أَوْلٰی النَّاسِ بِكِتَابِ اللّٰهِ، وَمَنْ يُحَاجُّنِي فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ فَأَنَا أَوْلٰی النَّاسِ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ…"
(ترجمہ:)
"اے لوگو! میں زمین پر اللہ کی باقی ماندہ حجت ہوں۔ میں اللہ کی طرف سے تم پر حجت ہوں۔ میں تمہارا امام قائم ہوں… اے لوگو! جو کوئی میرے ساتھ کتابِ خدا کے بارے میں بحث کرے تو میں سب سے زیادہ کتابِ خدا کا حق دار ہوں۔ اور جو کوئی میرے ساتھ سنتِ رسول اللہ کے بارے میں بحث کرے تو میں سب سے زیادہ سنتِ رسول اللہ کا حق دار ہوں۔"
اس خطبہ میں امامؑ:
اپنا تعارف اور نسب بیان کریں گے۔
قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف دعوت دیں گے۔
اور عدل و انصاف پر مبنی عالمی منشور کا اعلان کریں گے۔
یہ پہلا جمعہ انسانی تاریخ کا وہ دن ہوگا جس میں مومنین کا انتظار اپنی منزل کو پائے گا۔
(بحار الانوار، ج 52، ص 290؛ الغيبة للطوسی، ص 285)
17 قسط نمبر:
امامؑ اور امام حسینؑ کی زیارت کا منظر
امام مہدی علیہ السلام ظہور کے بعد کربلا تشریف لے جائیں گے اور وہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کے مزارِ اقدس کی زیارت کریں گے۔
امامؑ گریہ و عزاداری کریں گے۔
انصار اور مؤمنین بھی اس زیارت میں شریک ہوں گے۔
یہ منظر ایک بار پھر دنیا کو یاد دلائے گا کہ امام حسینؑ کی قربانی ہی عدل و حق کے قیام کی بنیاد ہے۔
(بحار الانوار، ج 53، ص 12)
موضوع: قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت
قسط نمبر 6:
ظہور کے بعد پہلا قیام (مکہ مکرمہ) اور عالمی ردِعمل
ظہورِ امام مہدیؑ کا آغاز مکہ مکرمہ سے ہوگا۔ روایات کے مطابق امامؑ خانہ کعبہ کے قریب، رکن و مقام کے درمیان کھڑے ہو کر اللہ کا نام لے کر اپنے ظہور کا اعلان فرمائیں گے:
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"قائمؑ، مقامِ ابراہیم اور رکن کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو دعوت دیں گے۔"
(الغيبة، شیخ نعمانی، ص 233)
روایت میں ہے:
"سب سے پہلے جبرائیل امام مہدیؑ کے سامنے حاضر ہو کر عرض کریں گے: السلام علیک یا حجة الله فی ارضه۔"
(بحار الانوار، جلد 52، صفحہ 307)
عالمی ردعمل اور میڈیا کی گونج
روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امامؑ کا اعلان اور ظہور دنیا بھر کے لیے ایک غیر معمولی خبر بن جائے گا۔ میڈیا، حکومتیں اور دنیاوی طاقتیں اس پر ردعمل دیں گی۔
شیخ صدوقؒ روایت کرتے ہیں:
"جبرائیلؑ ایک پکار کے ذریعے دنیا بھر میں امام مہدیؑ کا تعارف کروائیں گے۔ لوگ اپنے گھروں میں امامؑ کی آواز سنیں گے اور حیران رہ جائیں گے۔"
(کمال الدین، شیخ صدوق، جلد 2، ص 652)
بعض لوگوں کا انکار اور دشمنی
ظہور کے بعد امامؑ کی بیعت سے کچھ لوگ انکار کریں گے۔ خاص کر سفیانی (شامی طاقت) اور اس کے حامی اس بیعت کو ماننے سے انکار کریں گے اور امامؑ سے جنگ کی تیاری کریں گے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں :
"جب قائمؑ ظہور کریں گے تو بعض لوگ کہیں گے: یہ تو آلِ محمدؐ سے نہیں، بلکہ ہم خود زیادہ حقدار ہیں۔"
(الغيبة، شیخ طوسی، ص 278)
27/07/2025
موضوع: قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت
قسط نمبر 4: امام مہدیؑ کا پہلا خطاب اور عالمی اعلانِ ظہور
1. ظہور کا وقت اور مقام
امام مہدیؑ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے پاس ظہور فرمائیں گے۔
وہ اپنی پشت کو خانہ کعبہ سے لگا کر پہلا خطبہ ارشاد فرمائیں گے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"قائم آل محمدؐ خانہ کعبہ کے پاس قیام کریں گے اور اپنی پشت خانہ کعبہ سے لگائیں گے، پھر کہیں گے:
"اے لوگو! ہم وہی آل محمدؐ ہیں جنہیں اللہ نے تم پر اپنا خلیفہ بنایا ہے."
حوالہ: الغيبة للطوسي، ص 273
2. پہلا خطبہ:
امام مہدیؑ اپنے خطاب میں
اپنی حقیقی شناخت بیان کریں گے
رسول اللہ ﷺ اور اہل بیتؑ کی وراثت کا ذکر کریں گے
مظلوموں پر کیے گئے مظالم پر گواہی دیں گے
لوگوں کو عدل، توحید اور قرآن کی طرف بلائیں گے
نصرت کے لیے بیعت طلب کریں گے
امام باقرؑ فرماتے ہیں :
"پھر امام مہدیؑ فرمائیں گے:
جو چاہے آدمؑ کی وصیت، نوحؑ کی حکمت، ابراہیمؑ کا حلم، موسیٰؑ کی شریعت، عیسیٰؑ کی بشارت، محمد ﷺ کا دین اور علیؑ کی ولایت دیکھنا چاہتا ہے، وہ میری طرف آئے"
حوالہ: بحارالانوار، ج 52، ص 290
3. آسمانی اعلان (صیحة)
ظہور سے پہلے ایک عالمی غیبی صدا آسمان سے سنائی دے گی:
"حق مہدیؑ کے ساتھ ہے، تم اس کی پیروی کرو!"
حوالہ: الغيبة للنعماني، ص 253
یہ آواز شبِ جمعہ، 23 رمضان کو ہوگی۔
یہ صدا دنیا کی ہر قوم کو اپنی زبان میں سنائی دے گی۔
4. امامؑ کی بیعت کا مطالبہ
امامؑ کے ظہور کے بعد 313 خاص اصحاب پہلے بیعت کریں گے،
پھر باقی لوگوں سے امامؑ بیعت لیں گے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
"قائمؑ خانہ کعبہ سے ظہور کریں گے، اور لوگوں سے کہیں گے:
میرے پاس اللہ کا حکم اور دلیل ہے، تم میں جو چاہے بیعت کرے۔"
حوالہ: الکافی، ج 1، ص 336
5. ظہور کے وقت امامؑ کا دردناک کلام
روایت میں ہے کہ امامؑ ظہور کے وقت مظلومیت اور ظلمِ اہل بیتؑ پر گریہ کریں گے:
"اے دنیا کے لوگو! میرے جد حسینؑ کو پیاسا شہید کیا گیا..."
"اے دنیا والو! میرا حق غصب کیا گیا، میرے آباء کو قتل کیا گیا.."
حوالہ: بحارالانوار، ج 53، ص 11
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Dubai
00000