Saraiki Rang
03/05/2026
ذرا سوچیئے🤔
آزادئ صحافت کا عالمی دن — اور ڈی جی خان کا سوال
آزادئ صحافت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صحافت مادر پدر آزادی بن جائے۔۔۔
اور یہ بھی سچ ہے کہ صحافی شترِ بے مہار نہیں ہو سکتا۔
لیکن اس حقیقت کے ساتھ ایک اور تلخ سچ بھی جڑا ہوا ہے۔۔
ہمارے معاشرے میں صحافت کے نام پر ایک شور ہے
جہاں کچھ لوگ قلم کو ذمہ داری نہیں، ہتھیار بنا بیٹھے ہیں۔۔۔
جہاں بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور “ڈمی صحافت” نے اصل صحافت کو دھندلا دیا ہے۔
مگر سوال یہ ہے…
کیا اس کا حل یہ ہے کہ اصل، بااصول اور خوددار صحافیوں کو ہی کچل دیا جائے؟
یہاں المیہ شروع ہوتا ہے۔۔۔
ایک طرف وہ لوگ آزاد ہیں جو صحافت کے نام پر کاروبار کر رہے ہیں
اور دوسری طرف وہ لوگ مقدمات میں جکڑے جا رہے ہیں جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں
“ہیں سنگ و خشت مقید، سگ آزاد”
یہ صرف فارسی کی ایک مثال نہیں بلکہ
یہ آج کے حالات کا آئینہ ہے۔
شیر افگن بزدار اور ملک شاہد اعوان جیسے نام۔۔۔۔
صرف افراد نہیں، ایک سوچ کی نمائندگی ہیں
وہ سوچ جو سوال کرتی ہے، ثبوت کے ساتھ بات کرتی ہے، اور جواب مانگتی ہے۔
اگر کوئی صحافی ثبوت کے ساتھ بات کرے، مخالف مؤقف بھی لے،
اور پھر بھی اس کے گھر کی چادر اور چار دیواری پامال کی جائے…
تو یہ صرف ایک فرد پر ظلم نہیں
یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوال ہے۔
یاد رکھیں…
۔۔۔صحافت اگر دب جائے تو سچ دفن ہو جاتا ہے
۔۔۔اور جب سچ دفن ہو جائے تو انصاف اندھا نہیں، بے بس ہو جاتا ہے
ڈی جی خان کی انتظامیہ اور پولیس سے آج، اسی عالمی دن کے موقع پر ایک سنجیدہ اور مخلصانہ گزارش ہے:
✔️ بااصول صحافیوں پر قائم مقدمات کا ازسرِنو جائزہ لیں
✔️ جہاں زیادتی ہوئی ہے، وہاں تلافی کریں
✔️ اور یہ پیغام دیں کہ ریاست طاقتور کے ساتھ نہیں، سچ کے ساتھ کھڑی ہے
کیونکہ…
عزتِ نفس رکھنے والے لوگ دشمن نہیں ہوتے،
وہی اصل سرمایہ ہوتے ہیں—معاشرے کا بھی، اور ریاست کا بھی۔
آج اگر ہم نے سچ بولنے والوں کو بچا لیا…
تو کل ہمیں اپنے بچوں کو سچ سکھانے میں شرمندگی نہیں ہوگی۔
— ڈاکٹر محمد عثمان خان،اسلام آباد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Dubai